ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا حکم دے دیا

ایران نے بھی امریکا کو خبردار کردیا
شائع 01 اگست 2026 12:30pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران پر ایسے شدید حملے کرے گا کہ ایک وقت آئے گا جب ایران خود کہے گا کہ اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور یہ حملے ویک اینڈ کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کا مقصد ایران کے اہم توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانا اور اس کی فوجی و معاشی صلاحیت کو محدود کرنا ہے، تاہم امریکا یا اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل امریکا کو اشتعال دلا رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ہر صورت یہ یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

ادھر ایران نے بھی امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے اہم انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا بریگیڈ کے اعلیٰ کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی فوج کے پاس نہ صرف مکمل صلاحیت موجود ہے بلکہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بھی تیار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جارحیت کرکے بھاگ جانے کا دور ختم ہو چکا ہے، غلط اندازوں پر مبنی کسی بھی کارروائی کے نتائج ضرور بھگتنا پڑیں گے۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اسرائیل کو تنبیہ کرتے ہوئے مزد کہا کہ امریکا اور اس کے کرائے کے سپاہیوں کو اب اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کے فوجی سامان میں کفن شامل ہونا بھی ضروری ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر نئی فوجی کارروائیوں کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔