نئے صوبوں کی بحث کے دوران رائے ونڈ میں لیگی قیادت کی اہم بیٹھک
وزیراعظم شہباز شریف نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک ہوئے۔ بظاہر معمول کی سیاسی مشاورت قرار دی جانے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں گورننس، موجودہ نظام اور نئے صوبوں سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر سیاسی و عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔
رائے ونڈ ئیونڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال، حکومتی امور اور مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم ملاقات کی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ یہ ملاقات ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب دو روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی تھی۔
اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، ”کوئی مانے یا نہ مانے، سسٹم گر چکا ہے“ اور موجودہ ڈھانچے کے ساتھ آئندہ برسوں میں بھی یہی مسائل برقرار رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے انتظامی ری سیٹ، نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی جانب جانا ناگزیر ہے۔
محسن نقوی کے اس بیان پر جمعے کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا تھا کہ وزیر داخلہ کی گفتگو ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ محسن نقوی بطور وزیر اور بطور رکن پارلیمنٹ اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی پاکستان کے عوام کا حق ہے اور ملک کو اس کی ضرورت ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، پاک فوج کا وژن واضح ہے کہ اچھی حکمرانی کے بغیر نہ ملک میں امن و استحکام آ سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے، جب کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین و قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔
انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ ہو چکی ہے، جب کہ انتظامی ڈھانچہ بنیادی طور پر وہی ہے۔
بعد ازاں، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص خود کو وفاقی وزیر داخلہ کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے، حالانکہ وہ خود اسی ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ اگر کسی بھیانک سازش کے تحت ملک میں 22 نئے صوبے بنا کر 22 وزرائے اعلیٰ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔
انہوں نے محسن نقوی سے وفاقی وزیر داخلہ کا عہدہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینیٹر ہیں اور انہیں وزارت داخلہ کا منصب نہیں دیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بھی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے بقول، نئے صوبے کسی سیاسی خواہش کا نہیں بل کہ پاکستان کو مؤثر انداز میں چلانے کی مجبوری کا تقاضا ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کی آبادی 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، مگر انتظامی ڈھانچہ اب بھی صرف چار صوبوں پر مشتمل ہے، اس لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں 80 فی صد عوام تک اختیارات اور وسائل نہیں پہنچ پا رہے، جس کے باعث انتظامی اصلاحات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ایسے میں رائے ونڈ میں وزیراعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ملاقات کو سیاسی حلقے غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
یہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں گورننس، انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں سے متعلق بحث شدت اختیار کر چکی ہے، تاہم ملاقات میں ان موضوعات پر کوئی باضابطہ اعلامیہ یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔













