میر رضا کیس میں کوئی دباؤ نہیں، چاہتے ہیں فیملی کے ساتھ انصاف ہو: وزیر داخلہ سندھ

حکومت کا اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ میر رضا کی موت قتل ہے یا خودکشی: وزیر داخلہ سندھ
شائع 07 اگست 2026 11:50pm

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ حکومت کا اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ میر رضا کی موت قتل ہے یا خودکشی، حکومت صرف شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس میں کسی قسم کا دباؤ نہیں اور تمام شواہد کی بنیاد پر چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ وہ کسی کی ساکھ پر سوال نہیں اٹھا رہے تاہم پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا مکمل جائزہ لیے بغیر بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس سرجن محکمہ کے سربراہ ہیں، اگر انہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ پر کوئی اعتراض یا سوالات تھے تو انہیں تحریری طور پر ریکارڈ پر لانا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ من و عن تفتیشی افسر (آئی او) کو بھجوا دی۔

ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ”کسی کا کیس خراب کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے، حکومت کو کوئی سروکار نہیں کہ یہ قتل ہے یا خودکشی، ہم صرف چاہتے ہیں کہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف ملے۔“ انہوں نے کہا کہ اس پوسٹ مارٹم رپورٹ پر یقیناً سوالات اٹھیں گے اور یہ معاملہ عدالت میں بھی زیر بحث آئے گا۔

وزیر داخلہ سندھ کے مطابق عدالت نے سیکریٹری ہیلتھ اور پولیس سرجن کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی جب کہ آج دوبارہ عدالت نے سیکریٹری ہیلتھ کو ہدایت کی کہ خاندان جن ڈاکٹروں پر اعتماد کرتا ہے، انہیں بورڈ میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر سمعیہ کو اختیار حاصل ہے کہ اگر ضرورت محسوس کریں تو کسی بھی ڈاکٹر کو بورڈ سے نکال سکتی ہیں۔

ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ اگر میر رضا کے والدین سیکریٹری ہیلتھ کو خط لکھ دیتے تو انہی کی مرضی کے مطابق بورڈ تشکیل دیا جاتا۔ ان کے مطابق معاملہ کراچی یا حیدرآباد کے ڈاکٹر کا نہیں بلکہ سینیارٹی کا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کہ ”میں ڈاکٹر نہیں، وزیر داخلہ ہوں۔ ہم نے متعلقہ ڈاکٹرز کو ذمہ داری دی ہے اور پولیس سرجن کو بھی اپنے اختیارات کے مطابق کام کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ جن ڈاکٹروں پر والدین کو اعتماد ہے، وہی بورڈ میں شامل ہونے چاہییں اور حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پولیس نے پہلے سے کوئی رائے قائم نہیں کی، تحقیقات جاری ہیں اور جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانک شواہد اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ ”اطمینان رکھیں، جو بھی چالان عدالت میں پیش ہوگا وہ مکمل شواہد کے ساتھ ہوگا، اس کیس کو بلائنڈ نہیں رکھا جائے گا۔“

ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ جب تک وقوعہ میں استعمال ہونے والا پستول برآمد نہیں ہوتا، جائے وقوعہ سے ملنے والے خول کی اپنی کوئی حتمی اہمیت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کے دوران جائے وقوعہ سے مٹی سمیت تمام ممکنہ شواہد اکٹھے کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ میر رضا کیس کی تحقیقات پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شفاف انداز میں تحقیقات مکمل کی جائیں گی۔