ایرانی صدر کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات، سرکاری میڈیا کی تصدیق
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں جنگ کے علاوہ ملک کو درپیش مسائل، عوام کی معاشی ضروریات اور مستقبل کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی پریس ٹی وی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے دورِ صدارت کا تیسرا سال شروع ہونے پر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں ملک کو درپیش مسائل اور مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران جنگ کی موجودہ صورت حال اور مستقبل کے حالات کا جائزہ لیا، اس دوران عسکری شعبے میں ہونے والی پیش رفت بھی زیرِ بحث آئی۔ ملاقات میں عوام کی معاشی ضروریات اور روزگار سے متعلق مسائل پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ ملکی وسائل کے تحفظ اور اخراجات کے بہتر انتظام سے متعلق ممکنہ حل پر بھی غور کیا گیا۔
اس کے علاوہ ایرانی کرنسی، غیر ملکی زرمبادلہ اور توانائی سے متعلق امور سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ملاقات جولائی کے اواخر میں ہوئی تھی جب مسعود پزشکیان اپنے عہدِ صدارت کے تیسرے سال میں داخل ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ مسعود پزشکیان 5 جولائی 2024 کو صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرکے ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ 28 جولائی 2024 کو آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں باضابطہ طور پر صدر مقرر کیا تھا جب کہ 30 جولائی کو انہوں نے ایرانی پارلیمان کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
ان کا انتخاب ایسے میں ہوا تھا جب سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس سے قبل مئی میں بھی ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر مسعود پزشکیان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے طویل ملاقات کی خبر دی تھی۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ان کی ایران کے کسی اعلیٰ حکومتی رہنما سے ملاقات کی خبر کو نشر کیا گیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے تھے۔ اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر بننے کے بعد سے میڈیا یا عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے، ان کے تحریری پیغامات بھی سرکاری میڈیا کے ذریعے ہی جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے بھی مختلف قسم کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں۔
ہفتے کے روز ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی مہر نیوز نے ان کی ایک ایسی ویڈیو جاری کی جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کو چند افراد کے ساتھ بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا نے اس ویڈیو کے اوقات سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
یہ بھی واضح نہیں کہ ایرانی میڈیا نے یہ ویڈیو اس وقت کیوں جاری کی تاہم ان کے طویل عرصے سے منظرِ عام پر نہ آنے باعث ویڈیو کے باوجود ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں برقرار ہیں۔















