میر رضا کی شرٹ کی کیمیکل رپورٹ موصول، تیزاب اور بے ہوشی کی دوا کے استعمال کی تصدیق

میر رضا قتل کیس: جیو فینسنگ ہوئی نہ سی ڈی آر؛ سابقہ پولیس تفتیش کی مزید بڑی خامیاں بے نقاب
شائع 11 اگست 2026 03:32pm

پولیس کو مقتول میر رضا کی شرٹ کے کیمیکل ایگزامن یعنی کیمیائی تجزیے کی تفصیلی رپورٹ موصول ہو گئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کی شرٹ کی کیمیائی جانچ کے دوران اس پر نمک کے تیزاب کے واضح شواہد ملے ہیں۔

اس رپورٹ میں سب سے بڑا اور سنسنی خیز انکشاف مقتول کے خون کے نمونوں کے حوالے سے ہوا ہے۔ کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کے مطابق، نوجوان میر رضا کے خون کے نمونے میں بے ہوشی کی دوا کے اجزاء بھی پائے گئے ہیں، جس سے یہ شبہ شدید ہو گیا ہے کہ موت سے قبل مقتول کو کوئی نشہ آور یا بے ہوش کرنے والی چیز دی گئی تھی۔

تفتیشی ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ نوجوان میر رضا کی شرٹ پر گن شاٹ ریزیڈیو یعنی گولی چلنے کے بعد بارود کے جو ذرات رہ جاتے ہیں، وہ ان کی کمر پر پائے گئے ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شرٹ پر گن شاٹ ریزیڈیو کی کمر کی جانب زیادہ مقدار میں موجودگی سائنسی طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ گولی سامنے سے نہیں بلکہ کمر کی جانب سے ماری گئی تھی۔

تفتیشی حکام کے مطابق، مقتول میر رضا کی شرٹ کو کیمیائی تجزیے اور تفصیلی معائنے کے لیے چند روز قبل ہی فرانزک لیبارٹری بھیجا گیا تھا تاکہ سائنسی شواہد کی مدد سے اصل حقائق کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس سے قبل کیس کی تحقیقات میں سابقہ تفتیشی ٹیم کی مجرمانہ غفلت اور خامیاں بھی سامنے آئی تھیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق واردات کے بعد سے اب تک جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ تک نہیں کروائی گئی تھی اور نہ ہی مقتول میر رضا کا موبائل ڈیٹا ریکارڈ حاصل کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ مقتول کی اسمارٹ واچ کا فرانزک بھی نہیں کروایا گیا تھا جو کہ کسی بھی مجرمانہ کیس کی کڑیاں ملانے کے لیے بنیادی شواہد تصور کیے جاتے ہیں۔

اس صورتحال کے بعد اب نئی تفتیشی ٹیم نے کیس کو سنبھالتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ آج ہی مکمل کی جائے گی اور موبائل ڈیٹا کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس مشکوک گیسٹ ہاؤس کی تفصیلات بھی جمع کر لی گئی ہیں جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تھا۔

اس کے علاوہ نئی تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے بھی رابطہ کر لیا ہے جہاں ایک باقاعدہ درخواست جمع کروائی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ موت سے قبل میر رضا کو کسی قسم کی آن لائن یا فون پر دھمکیوں کا سامنا تو نہیں تھا۔

کیس کے قانونی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے مقتول میر رضا کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ اس اندوہناک واقعے کو اب بارہ سے تیرہ روز گزر چکے ہیں لیکن ابتدائی فرانزک رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مقتول کی شرٹ اور جسم کے مختلف اعضا کے نمونے جو پرانی تفتیشی کمیٹی کی جانب سے جامعہ کراچی کی لیبارٹری میں بھیجے گئے تھے، ان کی رپورٹ ایک دو روز میں آنے کی توقع ہے، جبکہ نئی تفتیشی کمیٹی کی جانب سے قبر کشائی کے بعد بھیجے گئے نمونوں کی ڈی این اے رپورٹ آج ہی موصول ہونے کا امکان ہے، تاہم دیگر تفصیلی فرانزک رپورٹس میں آٹھ سے دس دن لگ سکتے ہیں۔

وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ اس کیس میں کسی بھی قسم کی آڈیو لیک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مقتول کے اہلخانہ خود تمام تفصیلات فراہم کر رہے ہیں، اس لیے سنسنی پھیلانے یا کسی انکشاف کا نام دے کر خبریں نہ چلوائی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ کا دورہ کر کے تمام اہم مقامات دکھا دیے گئے ہیں اور اب پولیس کو تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہیے۔

دوسری جانب مقتول میر رضا کے والد میر حسین نے نئی تفتیشی ٹیم کے رویے پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ نئی تفتیشی ٹیم ہماری تمام باتیں غور سے سن رہی ہے اور ہمیں اس نئی ٹیم پر پورا اعتماد ہے۔

انہوں نے سابقہ ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر ابتدائی دنوں میں مؤثر طریقے سے تحقیقات کی جاتیں تو یہ کیس آج کسی مختلف اور بہتر مرحلے میں ہوتا، کیونکہ سابق تفتیشی ٹیم نے خاندان کے ساتھ تحقیقات کی کوئی بھی تفصیلات شیئر نہیں کی تھیں۔

میر حسین نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ میر رضا کے ساتھ اصل میں کیا ہوا تھا، ان کا کچن واقعے کے مقام سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور تھا، لیکن انصاف کے لیے جس حد تک بھی جانا پڑا ہم جائیں گے اور ہم خود بھی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ وہ تین مشکوک افراد سے متعلق تمام معلومات پولیس کو پہلے ہی فراہم کر چکے ہیں اور اب پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تحقیقات بالکل درست سمت میں جا رہی ہیں۔