پیٹرول پمپس پھر بند ہونے کا خدشہ، ڈیلرز کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو 15 اگست سے پیٹرول پمپس غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دییے جائیں گے: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن
اپ ڈیٹ 11 اگست 2026 06:16pm

پاکستان بھر میں ایک بار پھر پیٹرول پمپس کی بندش کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دے دی ہے۔

منگل کو پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مقررہ مدت میں مطالبات تسلیم نہ کیے تو 15 اگست کی صبح 6 بجے سے ملک بھر میں تمام پیٹرول پمپس غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیئے جائیں گے۔

ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت نے 15 روز گزرنے کے باوجود ڈیلرز کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں کی، جس کے باعث پیٹرول پمپس کی ملک گیر بندش کا فیصلہ کرنے کی نوبت آئی ہے۔

چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کے باعث ڈیلرز کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ طریقہ کار میں قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے پیٹرول پمپس چلانے والے ڈیلرز کے لیے کاروباری مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر بھی نظرثانی کی جائے۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے احتجاج کی بنیادی وجہ ڈیلرز مارجن اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا نظام ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ موجودہ مارجن ان کے اخراجات اور کاروباری ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے، اس لیے مارجن میں اضافہ کیا جائے۔

رواں سال مارچ میں بھی پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ڈیلرز مارجن 8 فیصد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دی تھی۔ اس وقت ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باوجود ڈیلرز کا مارجن اسی سطح پر برقرار ہے، جس سے ان کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

بعدازاں مارچ میں اعلان کردہ ہڑتال مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ مشکلات کے پیش نظر مؤخر کردی گئی تھی۔ اس وقت ڈیلرز نے مارجن 8 فیصد کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا تھا۔

حکومت نے گزشتہ ماہ جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا نیا نظام متعارف کرانے کرایا تھا۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے بتایا تھا کہ روزانہ قیمتوں کا نظام 7 روزہ رولنگ ایوریج کی بنیاد پر ہوگا اور اس کا مقصد قیمتوں کے تعین میں شفافیت لانا اور مارکیٹ میں بگاڑ کو روکنا ہے۔

20 جولائی کو پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے حکومت کے روزانہ قیمتوں کے طریقہ کار کی حمایت بھی کی تھی تاہم اسی ملاقات میں ڈیلرز نے اپنا مارجن 8 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پیٹرولیم وزیر نے مارجن کے معاملے پر غور کی یقین دہانی کرائی تھی جب کہ ڈیلرز کے مارجن اور دیگر معاملات پر اوگرا کے ساتھ ملاقات بھی طے کی گئی تھی۔

بعدازاں پیٹرولیم شعبے میں روزانہ قیمتوں کے نظام پر اختلافات سامنے آئے اور بعض پیٹرول پمپ مالکان کی تنظیموں نے اس نظام کی مخالفت کرتے ہوئے مارجن میں کمی اور اضافی لاجسٹک اخراجات کے خدشات ظاہر کیے تھے۔

اب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں 15 اگست کی صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیے جائیں گے۔