امریکا میں 'سیل' پر تشدد کرنے والے نوجوان کو سال قید اور ایک لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا

امریکی حکام کے مطابق ’سیل‘ کو میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت تحفظ حاصل ہے، جس کی خلاف ورزی کی سزا ایک سال قید اور ایک لاکھ ڈالر تک جرمانہ ہے۔
شائع 14 اگست 2026 09:25pm

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں سیل (سمندری بلی) سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے نوجوان نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جرم امریکا کے وفاقی قانون ’مرین میمل پروٹیکشن ایکٹ‘ کے زمرے میں آتا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا ایک سال قید اور ایک لاکھ ڈالر جرمانہ ہے۔

امریکی نیوز چینل سی بی ایس کے مطابق 18 سالہ ٹائلر میول نے جمعرات کو وفاقی عدالت میں جرم کا اعتراف کیا۔ گزشتہ ماہ سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں انہیں سان ڈیاگو کے ساحل پر ایک سیل کو لاتیں مارتے دیکھا گیا تھا۔

امریکی اٹارنی آفس کے مطابق ٹائلر نے اپنے جرم کا اقرارِ ہوئے تسلیم کیا کہ 22 جولائی کی رات وہ ساحل پر موجود سیل کے قریب پہنچا اور سمندری جانور کو باکسنگ کے انداز میں لاتیں ماریں۔

حکام کے مطابق نوجوان نے خود کو یو ایف سی فائٹر سے تشبیہہ دیتے ہوئے سیل کی گھبراہٹ کے باوجود اس کا پیچھا جاری رکھا اور مزید دو مرتبہ اسے لات مارنے کی کوشش کی۔ اس دوران جانور کئی مرتبہ لڑکھڑایا، تاہم بعد میں وہ ساحل کی طرف روانہ ہوگیا۔

عدالت کے مطابق نوجوان نے عدالت میں یہ بھی تسلیم کیا کہ واقعے کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں جو کچھ دکھایا گیا ہے، وہ پیش آنے والے واقعے کی درست عکاسی کرتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ’سیل‘ کو میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کی سزا ایک سال قید اور ایک لاکھ ڈالر تک جرمانہ ہے۔ حکام کے مطابق چونکہ ملزم نے اعترافِ جرم کر لیا ہے، اس لیے عام طور پر جج حتمی سزا سناتے وقت اس کے تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حد سے کم سزا یا جرمانہ بھی عائد کر سکتا ہے۔

امریکا میں سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم ادارے ادارے فشریز آفس آف لا انفورسمنٹ کے مطابق کسی سمندری ممالیہ کو جان بوجھ کر مارنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ جانور کی فلاح کے لیے بھی خطرناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سمندری جانوروں سے چھیڑ چھاڑ نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل مئی میں بھی ایک سیاح کو ریاست ہوائی کے جزیرے ماؤئی کے ساحل کے قریب ایک نایاب سیل کی جانب پتھر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس واقعے کی ایک گواہ نے ویڈیو بنائی تھی، تاہم بعد میں سیاح کے وکیل نے عدالت میں یہ کہہ کر جان چھڑائی تھی کہ ان کا مؤکل سمندری کچھوؤں کے تحفظ کی کوشش کر رہا تھا۔