خوش ترین ممالک کی درجہ بندی پر تنازع، الگ الگ سروے میں 3 مختلف نتائج
دنیا کے خوش ترین ممالک کی نئی عالمی رپورٹس نے ایک دلچسپ تصویر پیش کی ہے۔ ایک رپورٹ میں فن لینڈ مسلسل نویں سال پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ایک دوسرے سروے میں انڈونیشیا کو سب سے زیادہ خوش ملک قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر دونوں نتائج ایک دوسرے سے مختلف لگتے ہیں، لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ دونوں سروے خوشی کو مختلف انداز سے ناپتے ہیں۔
2026 کی ورلڈ ہیپینس رپورٹ، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر نے گیلپ اور اقوام متحدہ کے ادارے کے اشتراک سے جاری کی، 147 ممالک میں لوگوں سے ان کی مجموعی زندگی کے بارے میں رائے لی گئی۔ اس رپورٹ میں فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے اور یہ مسلسل نویں مرتبہ ہے کہ فن لینڈ نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔
اس درجہ بندی میں لوگوں سے بنیادی طور پر یہ پوچھا گیا کہ وہ اپنی زندگی کو مجموعی طور پر کس مقام پر دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے صفر سے 10 تک کی ایک ریٹنگ استعمال کی گئی، جہاں صفر بدترین ممکنہ زندگی اور 10 بہترین ممکنہ زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے کینٹریل لیڈر کہا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کے بعد آئس لینڈ، ڈنمارک، کوسٹا ریکا، سویڈن اور ناروے بالترتیب نمایاں ترین ممالک میں شامل ہیں۔ کوسٹا ریکا کا چوتھے نمبر پر آنا خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ کسی لاطینی امریکی ملک کی اب تک کی سب سے بلند پوزیشن ہے۔
تاہم خوشی کی ایک دوسری تصویر مارچ 2026 میں جاری ہونے والے آئیپسوس ہیپینس انڈیکس نے پیش کی۔ اس سروے میں 29 ممالک کے 23 ہزار 268 بالغ افراد شامل تھے۔ انڈونیشیا میں 85 فیصد لوگوں نے خود کو بہت خوش یا نسبتاً خوش قرار دیا، جس کے باعث وہ اس سروے میں پہلے نمبر پر رہا۔ نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔
آئیپسوس کے نتائج میں میکسیکو اور نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ، کولمبیا 83 فیصد، ملائیشیا اور تھائی لینڈ 81 فیصد جبکہ برازیل 80 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔ امریکا 73 فیصد کے ساتھ اس فہرست میں 20ویں نمبر پر تھا۔
یہ فرق اس لیے پیدا ہوا کیونکہ ورلڈ ہیپینس رپورٹ یہ نہیں پوچھتی کہ لوگ روزانہ کتنی بار مسکراتے ہیں یا انہیں اس وقت خوشی محسوس ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس کے بجائے یہ لوگوں سے ان کی پوری زندگی کے بارے میں مجموعی رائے معلوم کرتی ہے۔ دوسری جانب آئیپسوس زیادہ براہِ راست یہ پوچھتا ہے کہ لوگ خود کو خوش سمجھتے ہیں یا نہیں۔
خوشی کو جانچنے کا ایک تیسرا طریقہ بھی ہے۔ گیلپ کا گلوبل ایموشنز ریسرچ یہ دیکھتا ہے کہ لوگوں نے گزشتہ روز کیا محسوس کیا۔ اس میں خوشی، مسکرانے یا ہنسنے، اچھی نیند یا آرام، عزت کے ساتھ برتاؤ اور کوئی دلچسپ چیز سیکھنے جیسے مثبت تجربات شامل ہیں، جبکہ پریشانی، ذہنی دباؤ، اداسی، غصے اور جسمانی تکلیف جیسے منفی احساسات بھی دیکھے جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی مجموعی زندگی سے بہت مطمئن ہو سکتا ہے لیکن اس کا گزشتہ دن انتہائی تھکا دینے والا یا دباؤ سے بھرپور گزرا ہو۔ اسی طرح کوئی شخص ایک دن بہت خوش گزار سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اپنی زندگی کے حالات سے مطمئن نہ ہو۔
ورلڈ ہیپینس رپورٹ کے مطابق دنیا کے سرفہرست 20 ممالک کے اسکور میں ایک پوائنٹ سے بھی کم فرق ہے۔ اس لیے کسی ملک کا ساتویں نمبر پر آنا لازمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں کے لوگ چوتھے نمبر والے ملک کے لوگوں سے بہت کم مطمئن ہیں۔ معمولی فرق بھی درجہ بندی میں کئی نمبروں کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2006 سے 2010 کے عرصے کے مقابلے میں دنیا کے 79 ممالک میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں مجموعی رائے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کا کردار خاص طور پر نمایاں رہا۔
آئیپسوس کے مطابق خوشی کی سب سے اہم وجوہات میں خود کو دوسروں کی نظر میں اہم، قابلِ قدر یا محبوب محسوس کرنا شامل ہے، جبکہ خاندان اور بچوں کے ساتھ تعلقات بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مالی حالات لوگوں میں ناخوشی پیدا کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل رہے۔
ان تمام نتائج سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کا ایک ہی ملک ہر معنی میں سب سے خوش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر سوال یہ ہو کہ لوگ اپنی پوری زندگی کو کتنا بہتر سمجھتے ہیں تو فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ لوگ خود کو اس وقت کتنا خوش محسوس کرتے ہیں تو آئیپسوس کے سروے میں انڈونیشیا سب سے آگے ہے۔ اور اگر سوال گزشتہ روز کے جذبات کا ہو تو نتیجہ ایک بار پھر مختلف ہو سکتا ہے، یوں خوشی صرف دولت اور سہولتوں کا نام نہیں۔
ان رپورٹس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اپنی زندگی کو بہتر سمجھنا، مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگوں کا ہونا اور اپنی زندگی کے بارے میں بامعنی فیصلے کرنے کی آزادی بھی انسانی خوش حالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فن لینڈ کی مسلسل کامیابی بھی اسی وسیع معنی میں زندگی سے اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔
















