تہران نے مبینہ طور پر قطر میں گرفتار 3 ایرانی پائلٹس کی تصاویر جاری کر دیں
ایران کی جانب سے مارچ میں قطر پر کیے گئے حملوں کے دوران لاپتا ہونے والے ایرانی پائلٹس کا معاملہ اب شدید سفارتی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تہران نے پہلی بار ان لاپتا پائلٹس کی تصاویر جاری کردی ہیں۔
تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ دو مارچ کو قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتا ہونے والے تین ایرانی پائلٹس قطری فورسز کی تحویل میں زندہ موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب قطر نے ان پائلٹس کو اپنے پاس حراست میں رکھنے کے تمام الزامات کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج میں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادے نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی صدر مرجانا اسپولیاریچ کے نام ایک رسمی خط تحریر کیا ہے۔
خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایرانی فضائیہ کے دو ’ایس یو 24‘ لڑاکا طیارے مشن کے بعد واپسی پر دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آگئے تھے، جس کے نتیجے میں چار پائلٹس میں سے بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی جاں بحق ہو گئے جن کی میت ایران پہنچا دی گئی، جبکہ تین دیگر پائلٹس جواد صالحی، عبدالحمید دشتیان اور عمران بیرویشیان کو قطری فورسز نے زندہ گرفتار کر لیا۔
جنرل محمد باقرزادے نے ریڈ کراس سے ان پائلٹس تک رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود جنیوا کنونشنز کے تحت قیدیوں کے حقوق کا احترام نہیں کیا گیا اور یہ معاملہ جنگی جرائم کے دائرے میں آتا ہے لہٰذا ریڈ کراس فوراً ان سے ملاقات کر کے ان کی صحت سے تہران کو آگاہ کرے۔
اس سے قبل یکم اگست کو ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے بھی کہا تھا کہ تہران اس معاملے کی مسلسل پیروی کر رہا ہے۔
اس کے برعکس، قطری وزارتِ خارجہ نے ایرانی دعؤوں کو حقیقت کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے قطری موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی پائلٹس نے قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور واقعے کے بعد ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو بعد میں صرف ایک پائلٹ کی باقیات ملی تھیں اور قطر نے باقیات کی حوالگی کے لیے تہران سے رابطہ بھی کیا تھا لیکن ایران کی طرف سے مطلوبہ تعاون سامنے نہیں آیا۔
قطری حکام کے مطابق وہ کسی بھی پائلٹ کو حراست میں رکھنے کی تردید کرتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جاری سفارتی کوششوں کے درمیان ایسے بیانات افسوس ناک ہیں۔













