ایرانی مسلح افواج کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا اور اسرائیل کو مکمل شکست دینے اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے اتوار کو 1980 کی دہائی کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی جنگی قیدیوں کی وطن واپسی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بیان میں سابق جنگی قیدیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔
جنرل اسٹاف نے 8 سالہ جنگ کو ایرانی عوام کے لیے باعثِ فخر، قومی وقار اور شناخت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے تجربے نے خود انحصاری، آزادی کی جستجو، ظلم کے خلاف مزاحمت، رہبر سے وفاداری اور بصیرت کی علامت کی حیثیت اختیار کی۔
ایرانی جنرل اسٹاف نے مزید کہا کہ ایرانی نوجوانوں نے دنیا کی سب سے زیادہ جدید اسلحے سے لیس فوج اور ’’مجرم امریکا‘‘ کے خلاف مزاحمت کی۔ بیان کے مطابق یہ مزاحمت شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی اپیل پر کی گئی اور رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایرانی نوجوانوں نے دشمن کے رہنماؤں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
بیان میں ایرانی قوم کے ثابت قدم عزم کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ مسلح افواج امریکا کا مقابلہ کرتے ہوئے ایرانی عوام اور رہبر کے جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مغربی ایشیا میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج خطے میں امریکی اور اسرائیلی دشمنوں کی مکمل شکست، ایرانی عوام کے حقوق کے حصول اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔
ایرانی جنرل اسٹاف کے بیان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے فروری 2026 کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔ اس دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ حکام اور فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق امریکا اور اسرائیل تقریباً 40 روز بعد، اپریل 2026 کے آغاز میں ایران کی جوابی فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی مضبوط گرفت کے باعث جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے مزید کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ایران اپنے قومی اور جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور امریکی و اسرائیلی مخالفین کی مکمل شکست، ایرانی عوام کے حقوق کے حصول اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک مزاحمت جاری رکھنے کا عزم برقرار ہے۔
ایران کا جنگ کے دوران فضائی دفاعی پیداوار متاثر نہ ہونے کا دعویٰ
دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی فضائی دفاعی نظام تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ محفوظ رہا۔
الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کے ایک عہدیدار نے فارس کی جانب سے نشر کی گئی ایک دستاویزی فلم میں جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق جنگ کے دوران ملک کے فوجی پیداواری ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری اور فراہمی کی رفتار جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم نہیں ہوئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت کا بڑا حصہ پاسداران انقلاب کے اپنے ادارے کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران بعض شعبوں میں پیداوار میں کمی کے بجائے اضافہ بھی ہوا ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کے فضائی دفاعی پیداواری مراکز کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم مجموعی پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ متاثر ہونے سے محفوظ رہا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق اس وقت ایران کے پاس فعال فضائی دفاعی نظام کا ذخیرہ بھی جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران جنگ کے دوران اپنے فضائی دفاعی نظام کی پیداوار اور فراہمی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ میں فضائی حملے اور دفاعی نظام اہم موضوع رہے ہیں۔ جنگ کے دوران ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے باوجود فضائی دفاعی نظام کی پیداوار میں نمایاں خلل نہیں آیا اور بعض شعبوں میں پیداوار مزید بڑھائی گئی۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیان ملک کی دفاعی پیداواری صلاحیت اور جنگ کے بعد فضائی دفاع کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔














