ایرانی معیشت تباہ کرنے کی تیاری، ٹرمپ کے سامنے پانچ طریقے

امریکی محکمہ خزانہ کے پاس تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں: بلومبرگ
شائع 16 اگست 2026 12:26pm

امریکا نے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کرلی ہے، ٹرمپ انتظامیہ آئندہ ہفتے تہران کے خلاف غیر معمولی اقتصادی اقدامات کا اعلان کرسکتی ہے۔ امریکی ویب سائٹ بلوم برگ نے ایران پر امریکی حکومت کی جانب سے معیشت پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے موجود 5 ممکنہ طریقوں کی نشاندہی کی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق امریکی حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف مزید کون سے اقدامات کیے جائیں گے، تاہم امریکی محکمہ خزانہ کے پاس تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا ایرانی تیل کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ چین ایران کی تیل کی برآمدات کا 90 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے، اس لیے چینی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف پابندیاں تہران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کم کرنے کا براہِ راست ذریعہ بن سکتی ہیں۔

امریکا ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد بعض چھوٹی چینی ریفائنریوں اور ان سے منسلک کمپنیوں پر پہلے ہی پابندیاں عائد کر چکا ہے، تاہم بڑے چینی بینکوں کو اب تک نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا ہے۔ چینی کمپنیوں یا مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات بھی اہمیت رکھتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات کم ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

امریکا ایران کو بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی رقوم منتقل کرنے میں مدد دینے والی کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران تیل فروخت کرنے کے بعد عموماً چینی یوآن میں ادائیگیاں وصول کرتا ہے اور انہیں دوسری قابلِ استعمال کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایکسچینج کمپنیوں اور مالیاتی ثالثوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی بعض ایرانی ایکسچینج کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے اور ان پر اربوں ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی مبینہ منی لانڈرنگ میں مدد دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مزید پابندیوں کی صورت میں ایران کے لیے اپنی رقوم تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے، تاہم تہران کئی برسوں سے سرکاری مالیاتی نظام سے باہر رقم منتقل کرنے کے متبادل ذرائع تیار کرتا رہا ہے۔

امریکا ایران کے ساتھ معمولی نوعیت کا لین دین کرنے والے غیر ملکی اداروں پر ثانوی پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں غیر ملکی کمپنیوں اور بینکوں کو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے یا امریکی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس اقدام سے روس اور چین پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ ایران کے پڑوسی ممالک، خصوصاً ترکیے میں موجود کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے بھی اس کی زد میں آنے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی پہلے ہی دے چکے ہیں، تاہم یہ دھمکی تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔

بلومبرگ کے مطابق امریکا ایرانی حکومت کے بعض بیرونِ ملک اثاثے منجمد کرنے کے بجائے انہیں ضبط کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے 2003 میں عراق پر حملے کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدام کو مثال بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم امریکی دائرۂ اختیار میں موجود ایرانی حکومت کے اثاثوں کا حجم محدود ہو سکتا ہے، جبکہ انہیں ضبط کرنا قانونی اور سفارتی اعتبار سے منجمد کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگا۔

ایران کی بیرونِ ملک دولت کا بڑا حصہ تیسرے ممالک میں موجود ہے، جس کے باعث واشنگٹن کو ان اثاثوں کی ضبطی کے لیے دیگر حکومتوں کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

امریکا ایران کے نام نہاد خفیہ بحری بیڑے کے خلاف بھی کارروائی کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن صرف انفرادی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان کمپنیوں، ٹرمینلز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا ہے جو ایران کے خفیہ بحری بیڑے کی شپنگ سرگرمیوں کو ممکن بناتے ہیں۔ امریکا پہلے ہی اس بحری بیڑے سے منسلک متعدد بحری جہازوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران کی پاکستان، ترکی اور قطر سے بھی تیزی سے بات چیت جاری ہے۔ اسی دوران امریکی انتظامیہ نے خاموشی سے بعض غیر متوقع یورپی ممالک سے بھی رابطے بڑھا دیے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رواں ہفتے منگل کو واشنگٹن میں آسٹریا کی وزیر خارجہ بیاتے مائنل رائزنگر سے ملاقات کی تھی، جبکہ بدھ کو انہوں نے یونان کے وزیر خارجہ جارج جیرپیٹریٹس سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ بظاہر یہ معمول کے سفارتی رابطے تھے کیونکہ امریکا کے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور امریکی محکمہ خارجہ کے ابتدائی بیانات میں ایران کا نام بھی نہیں لیا گیا۔

تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ آسٹریا اور یونان کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ کیا اور یہ گفتگو امریکی وزیر خارجہ سے ان کی بات چیت کے کچھ ہی دیر بعد ہوئی۔ معاملے سے واقف ایک یورپی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی اور یورپی رابطوں کا ایک ہی وقت میں ہونا محض اتفاق نہیں تھا۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے ان ممالک کو بھی سفارتی کردار ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے جو تنازع میں براہ راست فریق نہیں ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرکے مستقل تصفیے کی طرف جانے کا راستہ نکالا جائے۔

تاہم ماہرین کے مطابق ان کوششوں کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات محدود بھی ہوسکتے ہیں۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مشرق وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر مونا یعقوبیان نے کہا کہ یونان، آسٹریا یا کسی دوسرے ایسے ملک کی کوششیں جو بنیادی ثالث نہیں ہیں، شاید خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں۔

ان کے مطابق دونوں فریقوں سے رابطوں کے ذریعے ایران اور امریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے، لیکن یہ باقاعدہ ثالثی نہیں۔ ثالثی ایک پیچیدہ عمل ہے جس کیلئے ثالث اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد قائم ہونا ضروری ہوتا ہے۔