فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد نہ روکنے کی اصل وجہ: مسئلہ صرف نیتن یاہو کا نہیں

اسرائیل میں حکومتیں بدلنے کے باوجود پالیسی کیوں نہیں بدلی؟
شائع 16 اگست 2026 09:10am

مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ میں فلسطینی باشندے پچھلے کچھ دنوں سے اپنے گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور اسرائیلی آبادکاروں کے خطرے کی وجہ سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔ حیران کن طور پر اسرائیلی فوج، جس نے حالیہ سالوں میں بیروت سے لے کر تہران تک اپنی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، اس گاؤں کے علاقے سے آبادکاروں کو مکمل طور پر ہٹانے میں ناکام رہی ہے۔

اس صورتحال پر امریکا، جو اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، اس نے بھی سخت تنقید کی ہے۔ امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ان شدت پسند آبادکاروں کو دہشت گرد قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے ان کے اثر و رسوخ کو مسترد کرتے ہوئے انہیں محض پہاڑیوں پر گھومنے والے اوباش لڑکے قرار دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ عناصر ایک بہت بڑی تحریک کا حصہ ہیں جسے اسرائیل کی یکے بعد دیگرے آنے والی تمام حکومتوں کی حمایت حاصل رہی ہے اور موجودہ وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے دور میں اس تحریک کو مزید طاقت ملی ہے۔

اس تحریک کا بنیادی مقصد مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو ہمیشہ کے لیے مضبوط کرنا اور ایک مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔

اسرائیل نے سنہ 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا، فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست میں ان علاقوں پر قبضہ چاہتے ہیں۔

اس وقت سے لے کر اب تک اسرائیلی حکومت اس علاقے میں ڈیڑھ سو کے قریب قانونی بستیاں تعمیر کر چکی ہے جہاں پانچ لاکھ سے زائد یہودی آبادکار رہائش پذیر ہیں اور حکومت کی اجازت کے بغیر قائم کی گئی سیکڑوں دیگر چوکیوں کو بھی فوجی تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور یہودی آبادکاروں کے لیے دو بالکل مختلف قانون نافذ ہیں۔ تقریباً تیس لاکھ فلسطینی، اسرائیلی فوجی قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جہاں انہیں کسی بھی وقت بغیر کسی جرم کے مہینوں اور سالوں تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہودی آبادکار اسرائیلی شہری قانون اور عدالتوں کے تابع ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”ملٹری کا کام صرف فلسطینی دہشت گردی کے خلاف لڑنا اور سرحدوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ پہاڑیوں پر گھومنے والے لڑکوں کے پیچھے بھاگنا“۔

انہوں نے آبادکاروں سے متعلق تمام معاملات کو سول پولیس کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق دوہرے قانونی نظام یا نسلی امتیاز کے نظام کو مزید دوام ملے گا۔

اسرائیلی پولیس اور فوج اکثر آبادکاروں کے تشدد کے خلاف اقدام کرنے سے کتراتی نظر آتی ہے۔ اسرائیلی پولیس کا شعبہ قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر کے پاس ہے جو خود ایک انتہا پسند آبادکار ہیں اور جنہیں ماضی میں دہشت گرد تنظیم کی حمایت سمیت 18 بار سزا سنائی جا چکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’یش دین‘ کے مطابق سال 2005 سے لے کر اب تک آبادکاروں کے تشدد کی 94 فیصد تفتیش بغیر کسی فردِ جرم کے ختم ہوئی اور صرف تین فیصد مقدمات میں سزائیں ملیں۔

اگرچہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے شدت پسند آبادکاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کی شروعات میں ہی ان پابندیوں کو منسوخ کر دیا اور آبادکاروں کے پرجوش حامی مائیک ہکابی کو اپنا سفیر مقرر کر دیا۔

اسرائیل کی سیاست میں بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین بھی بنیادی طور پر آبادی کاری کی حمایت کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف اور سابق جنرل گاڈی آئزن کوٹ نے حکومت کے انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے قانون توڑنے سے فوج کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ میں نے کبھی فلسطینی ریاست کی بات نہیں کی اور میں ان بستیوں کی حمایت کرتا ہوں جو اسرائیل کے مفاد میں ہوں۔

اسی طرح سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اس زمین پر ہمارے حق پر یقین ہے، ہمیں خود اپنی صفوں سے تشدد کا خاتمہ کرنا چاہیے اور امریکیوں کے کہنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

تاہم ان کے اپنے دورِ حکومت میں بھی ہزاروں نئے یہودی مکانات کی منظوری دی گئی تھی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔