سپریم کورٹ کااسلام آبادمیں تمام سرکاری دفاتر سیل کرنےکاحکم

اپ ڈیٹ 28 جون 2016 09:50am
فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں سارک اورخاتون محتسب کے علاوہ تمام سرکاری دفاتر سیل کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی،سماعت کے آغازپرسی ڈی اے اورحکومتی وکیل کے بیان میں تضاد پایا گیا۔

سی ڈی اے کے وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ 18سرکاری دفاتر تاحال گھروں میں قائم ہیں۔

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آفس کے مطابق ،تمام سرکاری دفاتر گھروں سے خالی کروا لیے گئے ہیں،سارک اور خاتون محتسب نے دفاتر شفٹ کرنے کے لیے مہلت مانگی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتروزیراعظم آفس کے پیچھے کیوں چھپتے ہیں،وزیراعظم ہاوس نے بھی کہہ دیا ہے کہ سرکاری دفاتر ہمارے پیچھے نہ چھپیں۔

سی ڈی اے وکیل کا کہنا تھا کہ 50فیصد سے زائد گیسٹ ہاؤسزمیں شراب اور جوئے کا دھندا ہوتا ہے،گیسٹ ہاوسز کے خلاف آپریشن پولیس کی مدد کے بغیر ممکن نہیں،بیشتر پولیس افسران بھی گیسٹ ہاؤسز کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

جس پرعدالت نے ہدایت کی کہ پولیس سی ڈی اے سے تعاون کرے،سیکرٹری کیڈ آئندہ سماعت پرپیش ہوکر سکولوں کی منتقلی کے بارے میں آگاہ کریں۔

پولیس جوئے میں ملوث گیسٹ ہاؤسزکے خلاف کارروائی کرے،جرائم کو روکنا اسلام آباد پولیس کی ذمہ داری ہے سی ڈی اے کی نہیں،بعد ازاں سماعت 27 ستمبرتک ملتوی کردی گئی۔