لاڑکانہ:رینجرز کی تحویل سےفراراسد کھرل تاحال عدم گرفتار

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2016 08:09am
نہ ہی اسے چھڑانے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوسکا - فائل فوٹو نہ ہی اسے چھڑانے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوسکا - فائل فوٹو

لاڑکانہ :لاڑکانہ میں رینجرز کی تحویل سےچھڑائے گئے ٹی ایم اے باکھرانی کے جونیئر کلرک اسد کھرل کو اب تک نہیں پکڑا جاسکا اور نہ ہی اسے چھڑانے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوسکا۔

 وزیر داخلہ سہیل انور سیال کی جانب سے واقع کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کیلئے ڈی آئی جی لاڑکانہ عبداللہ شیخ کو تفتیشی افسر مقرر کردیا گیا ہے۔

لاڑکانہ کی تحصیل باکھرانی کے تعلقہ میونسپل ایڈمنسٹریشن کے جونیئر کلرک کو بچانے کیلئے سندھ کی اہم اور بڑی شخصیات میدان میں آگئیں۔

 2روز قبل رینجرز لاڑکانہ میں باقرانی روڈ سے اسد کھرل کو حراست میں لینے پہنچی،اسد کھرل کو حراست میں لیا گیا اور ٹیم روانہ ہونے ہی لگی تھی کہ وزیر داخلہ سندھ کے بھائی طارق انور سیال اور اس کے ساتھیوں نے نیب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا راستہ روک دیا،رکاوٹ ڈال کر اسد کھرل کو زبردستی چھڑا لے گئے،کارروائی میں پولیس نے بھی طارق انور سیال کی مدد کی۔

ذرائع کے مطابق، اسد کھرل کو چھڑانے کے بعد کراچی منتقل کردیا گیا ہے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے دبئی بھجوانے کی تمام تیاریاں مکمل کردی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے معاملے سے لاتعلقی کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی جو معاملے کی تفتیش کرے گی۔

اسد کھرل کے چھڑائے جانے کے بعد ترجمان رینجرز نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسد کھرل اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔