لاڑکانہ :صوبائی وزیر داخلہ انور سیال کی رہائش کا رینجرز کا محاصرہ

شائع 15 جولائ 2016 05:12pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

لاڑکانہ میں صوبائی وزیرداخلہ انور سیال  کی رہائش گاہ اور اطراف میں رینجرز نے محاصرہ کر لیا۔ تاہم اعلیٰ حکام کی مداخلت پر محاصرہ ختم کر دیا گیا ۔ ادھر ڈوکری میں رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے سنگین الزامات میں مطلوب ملزم اسد کھرل کے قریبی ساتھی سمیت دس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سنگین الزامات میں مطلوب ملزم اسد کھرل کا معاملہ گمبھیر ہونے لگا۔رینجرز جہاں ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے وہیں سیاسی شخصیات کے  گرد گھیرا بھی تنگ ہونے لگا۔لاڑکانہ میں رینجرز نے وزیرداخلہ سہیل انور سیال کی رہائش گاہ اور اطراف کی سڑکوں کا محاصرہ کر لیا اور گاڑیوں کی روک کر تلاشی لی۔

محاصرے کی اطلاع پر وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے رابطہ کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے فورا مداخلت کی اور رینجرز حکام سے رابطہ کر لیا۔جس کے بعد رینجرز کی جانب سے محاصرہ اور اسنیپ چیکنگ ختم کردی گئی۔

ادھر ذرائع کے مطابق رینجرز نے لاڑکانہ کے علاقے ڈوکری سے کروڑوں روپے کی کرپشن اور دیگر الزامات میں مطلوب ملزم اسد کھرل کے قریبی ساتھی سمیت دس افراد کو گرفتار کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے گرفتارعابد بگھیو یو سی کیرانی کا سابق نائب ناظم ہے جبکہ گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر کے تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔رینجرز نے اسد کھرل کے قریبی ساتھیوں منصور عباسی اور منظور منگن کی گرفتاری کیلئے سچل کالونی اور گاؤں منگن میں چھاپے مارے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی۔