طارق سیال کے مبینہ فرنٹ مین اسد کھرل جوڈیشل ریمانڈ پر
فائل فوٹوسکھر :وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے بھائی طارق سیال کے مبینہ فرنٹ مین اسد کھرل کوآج سیشن کورٹ سکھر میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے ملزم کو چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔ ملزم پر کرپشن اور دہشتگردوں کی معاونت کا الزام ہے۔
کرپشن اور دہشتگردوں کی سہولت کاری کے الزامات انتہائی سنگین مگر مقدمہ انتہائی معمولی نوعیت کارینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان تنازعہ کی وجہ بننے والے اسد کھرل کو عدالتی حکم پر چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔اہم بات یہ ہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے ملزم کو دہشت گردی کی دالت کے بجائے سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے اسد کھرل کیخلاف معمولی نوعیت کے مقدمات دائر کئےایف آئی آر میں بغیر لائسنس اسلحہ اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل ہیں۔مقدمہ میں نہ تو بدعنوانی اور نہ ہی جرائم پیشہ عناصر کی معاونت کا الزام ہے۔
تیرہ جولائی کو لاڑکانہ میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اسد کھرل کو اس کے ساتھیوں نے چھڑا لیا تھا،رینجرز ذرائع کے مطابق اسد کھرل کو کرپشن اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
رینجرز نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ اسد کھرل بارہ مفرور ملزمان کی معاونت میں ملوث ہے۔اس واقعے کے بعد رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان معاملات خراب ہوئے،اسی دوران رینجرز اختیارات کا معاملہ بھی طول پکڑ گیا۔
اس سے قبل اطلاعات آئیں کہ حساس اداروں اور رینجرز کی مشترکہ کارروائی میں اسد کھرل کو حیدرآباد سے گرفتار کر کے تفتیش کیلئے کراچی منتقل کیا گیا ہے، لیکن اس پراسرار گرفتاری کی کسی ادارے نے تصدیق نہیں کی۔اور پھر اسد کھرل کی ایک بار پھر شکارپور سے گرفتاری کی خبریں گردش کرنے لگیں۔
ایس ایس پی سکھر نے دعوی کیا کہ اسد کھرل کو خفیہ اطلاع پر گرفتار کیا گیا اورانکے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔اب عدالت نے اہم ملزم اسد کھرل کو چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔