وسیم اختر کا بارہ مئی کا اعترافی بیان،وکلاء کی تردید

شائع 27 جولائ 2016 06:38pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

ایم کیوایم کے رہنما اور کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر کے وکلا نے بارہ مئی سے متعلق ان سے منسلک بیان کی تردید کردی۔ پولیس نے گزشتہ روز تفتیشی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ وسیم اختر نے بارہ مئی کو فائرنگ اور جلاؤگھیراؤ کا حکم دینے کا اعتراف اور مفرور ملزمان کو پکڑانے کی پیشکش کی ہے۔

سانحہ بارہ مئی  دوہزار سات انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردہ تفتیشی رپورٹ کے مطابق وسیم اختر کے کہنے پر بارہ مئی کو جلاؤ گھیراؤ کیا گیا،گاڑیوں پر فائرنگ بھی انہی کی ہدایت پر کی گئی،چیف جسٹس کے استقبال کیلئے آنے والوں پر فائرنگ بھی وسیم اختر کے کہنے پر کی گئی،ایم کیو ایم رہنما نے پیشکش کہ وہ مفرور ملزمان کو گرفتار کروا سکتے ہیں۔

تفتیشی رپورٹ میں وسیم اختر سمیت ایم کیو ایم قائد اور دیگر متحدہ رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جن میں ارکان سندھ اسمبلی کامران فاروقی اور محمد عدنان سمیت اسلم عرف کالا، شجاعت علی ہاشمی، عمیر صدیقی، فرحان شبیر عرف ملا، ساجد شٹرو اور جنید بلڈاگ سمیت تیرہ ملزمان شامل ہیں۔

تاہم نامزد مئیر وسیم اختر نے سانحہ بارہ مئی سے متعلق اعترافی بیان کے حوالے سے چلنے والی خبروں کی تردید کردی ہے۔وکلا کے پینل نے وسیم اختر سے سینٹرل جیل میں ملاقات کی اور قانونی معاملات کے علاوہ سانحہ بارہ  مئی پر مبینہ اعترافی بیانات کی خبروں سے بھی آگاہ کیا۔

وسیم اختر نے اس حوالے سے خط تحریر کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے  سانحہ بارہ مئی سے متعلق کوئی اعترافی بیان نہیں دیا،پولیس نے تفتیش میں سابقہ بیانات کا اعادہ کیا ہے،انہوں نے میڈیا پر چلنے والی تمام خبروں کی پرزور الفاظ میں تردید کی۔وسیم اختر نے میڈیا سے درخواست کی ہے کہ خبریں نشر کرنے سے قبل انکی تصدیق کی جائے۔

۔