متنازعہ خبر، تحقیقاتی کمیٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی بھی شامل

شائع 29 اکتوبر 2016 04:05pm
File Photo File Photo

اسلام آباد:حکومتی اعلامیہ یہ کہتا ہے کہ فرضی خبر کی تحقیقات کیلئے کمیٹی میں آئی بی کے علاوہ فوج کے دو تحقیقاتی ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی بھی شامل ہوں گے۔

چھہ اکتوبر سن دوہزار سولہ کو روزنامہ ڈان میں سول ملٹری اجلاس سے متعلق ایک خبر چھپی۔ جس سے حکومت اور فوج کے باہمی تعلقات پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

حکومت نے تحقیقات کا اعلان کیا اور نتیجے میں وزیر اطلاعات پرویز رشید کو گھر جانا پڑا ہے۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ کسی سیاست داں کے خلاف تحقیقات میں پہلی بار براہ راست دو فوجی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنے اوپر موجود شک کے سائے ہٹانا چاہتی ہے۔

چھیاسٹھ سالہ پرویز رشید دو ہزار نو میں سینیٹر بنے اور دو ہزار تیرہ کو وزیر اطلاعات کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔

اس سے پہلے بھی نوازشریف کابینہ کے اہم رکن اور قریبی ساتھ مشاہد اللہ کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے تھےاور اس کی وجہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے بارے میں ان کا متنازع بیان تھا۔