پانامہ پیپرز کا معاملہ سپریم کورٹ میں حل ہونا قابل اطمینان ہے، نواز

شائع 02 نومبر 2016 01:43pm
File Photo File Photo

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ میں پانامہ مقدمے کے قابل سماعت ہونے پراعتراض کرسکتی تھی لیکن فیصلہ میرٹ پرکرانے کیلئے ایسا نہیں کی تاہم  یہ معاملہ سپریم کورٹ میں حل ہونا قابل اطمینان ہے ۔

وزیراعظم نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو بذات خود سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کی درخواست کی تھی ،اس کیلئے قانون تجویز کیا اور پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی لیکن یہ کوششیں ناکام رہی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے یہ معاملہ اسے صرف سڑکوں پر اچھالنا چاہتے تھے، عوام نے اسے مسترد کردیا ، اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آچکا ہے، جہاں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

وزیراعظم نواز شریف نے مزید کہاکہ انہوں نے اپنے وکلاء کو سپریم کورٹ میں پانامہ مقدمے کے قابل سماعت ہونے پر بحث کرنے اور سوال اٹھانے سے روک دیا تھا ، الزام لگانے والوں کو  دوہزار چودہ میں کمیشن کے فیصلوں کے بعد بھی اُن کو شرمند ہ ہونا پڑاتھا ۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے پاکستان کی معاشی ترقی کو سراہا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی اصلاحات کا پروگرام مکمل ہوا ہے۔