ڈاکٹر روتھ کو مدر ٹریسا سے نہ ملائیں
فائل فوٹوڈاکٹر روتھ فاؤ کے اس دنیا سے جانے کی خبر پر پاکستان کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر سیاسی ٹرینڈز بنانے والے مشینوں کے ٹرینڈز کے باوجود ڈاکٹر روتھ فاؤ کا نام صفِ اول کا ٹرینڈ رہا۔
جہاں لوگ انھیں کوڑھ کے مریضوں کی مسیحا کہتے رہے وہیں بہت سوں نے انھیں پاکستان کی مدر ٹریسا قرار دیا۔
ان کے مرنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کا مطالبہ شروع ہوا جس کے چند گھنٹوں بعد حکومت کی جانب سے سرکاری تدفین کا اعلان کیا گیا۔
اور اس اہم موقع پر سوشل میڈیا کے بعض اکاؤنٹس کو اعتراض تھا کہ انھیں مدر ٹریسا کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔
TWITTER
پاکستان ڈیفنس نام کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے لکھا کہ ’ہمیں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو مدر ٹریسا سے ملانا بند کر دینا چاہیے کیونکہ مدر ٹریسا کا سارا رفاحی کام عیسائیت کی تریج کی خاطر تھا۔'
اس ٹویٹ کو ’شرمناک' قرار دیتے ہوئے سیموئیل ظہور نے لکھا ’انسانیت میں نفرت کہاں سے آگئی؟ انھوں نے اچھوتوں کی مدد کی جنھیں کوئی ہاتھ نہیں لگاتا تھا اور آپ یہاں سازشی تھیوریاں پھیلا رہے ہیں۔'
AFP
مسعود جان خان نے لکھا ’آپ کے سازشی علم کو اکیس توپوں کی سلامی۔ ایک دن آپ ڈاکٹر روتھ فاؤ کو بھی بے ایمان قرار دے دیں گے کیونکہ وہ مسیحی تھیں۔'
شائستہ صفدر نے لکھا ’اگر مدر ٹریسا نے عیسائیت کی ترویج تو اس سے کسی کو کیوں مسئلہ ہوگا؟ ہر ایک کو اپنے مذہب کی ترویج، اشاعت اور تبلیغ کا حق ہے۔‘
ڈاکٹر فیم اقبال نے لکھا ’مدر ٹریسا نے اپنی ساری زندگی ٹی بی، کوڑھ، ایڈز اور ایچ آئی وی کے مریضوں کی دیکھ بھال میں گذاری، متعدد یتیم خانے چلائے۔‘
BBC-













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔