Aaj TV News

BR100 4,131 Increased By ▲ 20 (0.48%)
BR30 20,689 Increased By ▲ 67 (0.32%)
KSE100 39,934 Increased By ▲ 301 (0.76%)
KSE30 16,784 Increased By ▲ 91 (0.54%)

یہ کہنا درست نہیں کہ موجودہ حکومت کی نا اہلی کے سبب ہمارا غریب طبقہ پس رہا ہے کیونکہ ماضی کے تمام حکمرانوں نے غریبوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔ کبھی انصاف سے محروم رکھا تو کبھی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کورونا وائرس نے چھپے غریب طبقے کو نمایاں کرکے سامنے لاکر کھڑا کردیا ہے۔ حکومت ان غریبوں کو استعمال کرتے ہوئے اربوں نہیں بلکہ کھربوں کھاتی رہی ہے۔ یہ استحصال روایتی ہے یعنی ہر دفعہ نظر آیا ہے اور نظر انداز کیا گیا ہے۔

تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملے ہیں کہ جن پر ہر انسان اشکبار ہوا ہے۔ مختلف گھرانوں کی مختلف کہانیاں ہیں۔ لیکن غربت نے انسان کو ہر وہ حد پار کرنے کی ہمت یا جنون دیا ہے کہ جس سے اس کے اندر موجود ہر قسم کا خوف ختم ہوجاتا ہے۔ میں اس غربت کا زمے دار کسی حکومت کو نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں موجود تمام لوگوں کو سمجھتی ہوں جن لوگوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی ہے۔ جہاں باشعور لوگوں کو اپنی آواز اٹھانی چاہیے وہاں وہ خاموش رہے۔ اس بار بھی مسائل کے حل کے لیے تجاویز ہونے کے باوجود لوگ خاموش ہیں۔

کیا اہل سیاست نے دیا اہل وطن کو

کشکول کو ہاتھوں میں لیے سوچ رہا ہوں

وہ لوگ جو ملک کا نظام بدلنا چاہتے ہیں وہ بھی اپنے مفاد تک محدود رہتے ہیں انہیں بھی غریب سے کوئی غرض نہیں۔ یہ سب اس وقت نظر آرہا ہے۔ بات کو مختصر کرتے ہوئے قارئین کو اپنا مدعا بیان کرنا چاہتی ہوں کہ اس وبا میں تو ایک غریب شخص ہر قسم کی سہولت سے محروم ہے لیکن تعلیم ایک ایسی ضرورت ہے جس سے ہم اس ملک کے حالات بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہاں مجھے اختر مینگل صاحب کا ایک جملا یاد آرہا ہے جو انہوں نے اسمبلی میں کہا کہ "ہمیں پیغامات وصول ہورہے ہیں کہ اپنے بچے نہ پڑھاؤ کہیں انہیں حق اور ناحق کے درمیان فرق معلوم ہوگیا تو وہ سوال کریں گے" یعنی تعلیم انسان کو عقل اور شعور فراہم کرتی ہے جس سے وہ صحیح اور غلط میں فرق کرتا ہے۔

غربت کے سبب جامعہ میں داخل طلباء تعلیم سے محروم ہورہے ہیں اور ہمارے حکمران، صحافی، سیاسی اور سماجی رہنما خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ چند عظیم لوگوں نے، جن کا تعلق ان رہنماؤں میں ہے، غریب طلباء کے مسائل کو سمجھتے ہوئے لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان چند لوگوں کی آواز دیگر غیر ضروری مسائل کے نیچے دب گئی۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی ٹرینڈنگ کو فالو کرتا ہے۔ سیاسی مسائل پر گفتگو کی جارہی ہے لیکن سماجی نا ہمواری کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔

ہم طلباء کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود کو ہماری جگہ رکھ کر دیکھیں۔ آپ تصور کریں کہ محنت مزدوری کرکے سیمسٹر کی فیس ادا کرتے ہیں، اچانک وبائی صورتحال کی وجہ سے آپ کی مزدوری چلی جاتی ہے اب آپ فاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور جامعہ کی طرف سے پیغام موصول ہوتا ہے کہ درج شدہ تاریخ تک اپنی فیس جمع کردیں ورنہ آپ کو امتحان میں نہیں بٹھایا جائے گا۔ اس حالت میں آپ کو خودکشی کہ خیالات نہیں آئیں گے تو کیسے خیالات آئیں گے؟

میں اس پلیٹ فارم کے توسط سے پڑھنے والے باشعور لوگوں کی توجہ اس سنجیدہ مسئلے کی جانب کروانا چاہتی ہوں کہ جو طلباء اس وبا کی صورتحال میں اپنی فیس ادا نہیں کر پارہے ان کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو درخواست کرتی ہوں کہ ان طلباء کے لیے کوئی ریلیف فراہم کرے یعنی فیس معاف کردے۔ اگر یہ امر اتنا مشکل ہے تو 50 فیصد یا کم از کم 30 فیصد تک فیس کی ادائیگی میں کمی کرے تاکہ کوئی غریب پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ امید ہے آپ سب اس جدوجہد میں ہم طلباء کا ساتھ دیں گے۔

مصنف: ورثہ پیرزادو

ٹوئٹر آئی ڈی: @VirsaPirzado

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔