سپریم کورٹ نےپشاور یونیورسٹی ملازمین کی اپیل سماعت کیلئےمنظورکرلی
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پشاوریونیورسٹی ملازمین کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کنٹریکٹ میں کی گئی بھرتیاں ہی مستقل کریں ،ادارے کسی وائس چانسلریا سنڈیکیٹ کے مطابق نہیں چلتے اورنہ کسی کو نوکری سے فارغ نہیں کرسکتے۔
چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے پشاوریونیورسٹی ملازمین کی مستقلی سے متعلق اپیل پرسماعت کی، بینچ نے 300لوگوں کی مستقلی ، قانون ، بجٹ پوسٹ اور تشہیر سے متعلق سوالات کئے۔
یونیورسٹی کے وکیل نے بتایاکہ کچھ پوسٹوں پرتشہیرکی تھی اورکچھ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ذریعے بھرتی ہوئے تھے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق 3سال سے کنٹریکٹ ملازمت کرنے والے کو مستقل کیا جاسکتا ہے، کنٹریکٹ میں کی گئی بھرتیاں ہی مستقل کریں ۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے نئی بھرتیاں کی وجہ پوچھتے ہوئے کہا کہ موجود ملازمین کو مستقل کرنے میں کونسی پریشانی ہے، کوئی دوسرا ایشونہیں توانہیں ہی مستقل کریں ، اکثر چھوٹے ملازمین ہیں کوئی بڑا آفیسر نہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ادارے کسی وائس چانسلریا سنڈیکیٹ کے مطابق نہیں چلتے، آپ کسی کولگی لگائی نوکری سے فارغ نہیں کرسکتے ہیں، فیصلہ ان ملازمین کے حق میں آیا تو پھر کیا ہوگا۔
بعدازاں عدالت عظمیٰ نے اپیل سماعت کیلئے منظورکرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔