لگتا ہےنیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی، جسٹس قاضی فائزعیسی
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب افسر بن کر فراڈ کرنے والے ملزم کی ضمانت کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بارمواقع دیئے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، لوگوں کو ڈرانے کیلئے نیب کا نام ہی کافی ہےِ ، لگتا ہے نیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی، ہم سب ریاست کے ملازم ہیں۔
جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے نیب افسران کے نام پر پیسے لینے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کی تقرری اوراہلیت پرسوال اٹھا دیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے تعلیم اورنتخواہ کے ساتھ ساتھ فوجداری معاملات کے تجربہ سے متعلق پوچھا تو ڈی جی نیب عرفان منگی نے بتایاکہ انجینئر ہوں اورتنخواہ 4 لاکھ 20 ہزارروپے ہے اور فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ ایک انجینئرنیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے ؟چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں؟ عرفان منگی کس کی سفارش پرنیب میں گھس آئے، چیئرمین نیب اب جج نہیں،انہیں عدالت بلا سکتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے مزید کہاکہ مارشل لا ءمیں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر کا خوف ہوتا ہے، مارشل لا ءسے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے، ہربندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے ، نیب جس معاملے میں چاہتا ہے گھس جاتا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ نیب والے عوام کے ملازم ہیں، بار بارمواقع دیئے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، لوگوں کو ڈرانے کیلئے نیب کا نام ہی کافی ہےِ ، لگتا ہے نیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی، ہم سب ریاست کے ملازم ہیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے نیب کے تمام ڈی جیز کی تقریروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم محمد ندیم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔