سینیٹ: گستاخانہ خاکے، مذمتی قرارداد منظور

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایوان بالا میں مذمتی...
شائع 26 اکتوبر 2020 10:36pm

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایوان بالا میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی ۔

چئیرمین نے قرارداد کی کاپی پاکستان میں تعینات فرانسیسی سفیر کو بھجوانے کی رولنگ دی۔کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی۔ جس میں کہا گیا کہ اس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے ایسے اقدامات کو حکومتی سرپرستی حاصل ہونا افسوسناک ہے۔یہ اقدامات مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کا سبب بن سکتے ہیں۔دنیا ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنائے۔

سراج الحق،جاوید عباسی،مولانا عطاء الرحمان،شیخ عتیق،بیرسٹر سیف اور اپوزیشن کے دیگر اراکین نے کہا کہ فرانس کی طرف سے پے درپے ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔اس سے پہلے حجاب کا معاملہ بھی آ چکا ہے ۔فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئیے ۔اگر کوئی پارلیمانی وفد فرانس جا رہا ہے اسکا دورہ منسوخ کردیا جاے ۔دہشتگردی کے مرتکب یہ ممالک ہیں جو ایسے اقدامات کرتے ہیں ۔

رہنماوں کا کہنا تھا کہ پاکستان فرانس کیساتھ سفارتی تعلقات کو فوری منقطع کرے۔اس طرح کے عمل سے دنیا کا امن خراب ہو رہا ہے۔آج ایک ملک میں فرانس کے سفارتخانے کو آگ لگا دی گئی ۔اس کاالزام مسلمانوں پہ نہ لگایا جائے یہ ردعمل ہے۔دنیا مین اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھانی پڑے گی۔

وزیر مملکت علی محمد خان،اعظم سواتی،محسن عزیز اور دیگرحکومتی اراکین نے کہا کہ فرانس کے لوگوں کی بھی اکثریت صدر میکرون کی حامی نہیں، میکرون تم نے جو کیا اس سے فرانسیوں کے سر شرم سے جھک گئے۔فرانسیسی صدر پوری دنیا کے مسلمانوں سے غیر مشروط معافی مانگے۔

سراج الحق نے کہا کہ وزیروں کی طرح مشیروں کو بھی عہدوں کا حلف اٹھانا چاہئیے۔حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پر بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔زینب الرٹ ترمیمی بل بھی سراج الحق کی جانب سے ایوان میں پیش کیا یہ بل بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

وزیرمذہبی امورنورالحق قادری کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے لیے نبی صلہ وآلہ وسلم کی حرمت جانوں سے بھی بڑھ کر ہے۔مسلمان نبیوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں رکھتے اور تمام مذاہب کے لیے یکجان جذبات رکھتے ہیں۔فرانس کے عرب دنیا سے تعلقات ہیں عرب دنیا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر اردوان اور عمران خان نے جو مؤقف اٹھایا وہ کسی نے نہیں اٹھایا،۔اس معاملے پر سفارتی اور سیاسی جواب دینا بھی ضروری ہے۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ دنیا کو ایک قانونی اور موثر جواب دینے کی ضرورت ہے،کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کی قرارداد پی پی پی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یوم سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔27اکتوبر دنیا کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔