قومی اسمبلی : توہین رسالت کیخلاف مذمتی قرارداد منظور
قومی اسمبلی نے توہین رسالت اور اسلاموفوبیا کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی ۔ قرارداد میں فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے علاوہ ناروے اورسویڈن میں قرآن پاک کی توہین کی مذمت کی گئی ہے ۔
قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس میں توہین رسالت اور اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد منظور کرلی ہے، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان فرانس میں خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور ناروے و سویڈن میں قرآن پاک کی بیحرمتی کی مذمت کرتی ہے، دنیا کے بعض حصوں میں توہین رسالت اوراسلاموفوبیا کی موجودہ لہر کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
قرارداد میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بعض ممالک کے سیاستدانوں کے بہت زیادہ قابل افسوس بیانات کی مذمت کرتے ہیں، اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، دوسرے مذاہب کی توہین بالکل بھی اظہاررائے کی آزادی نہیں، عالمی وبا کے دوران بھی اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے جذبات میں اشتعال کی حرکتیں جاری ہیں، مذہب یا عقائد کے نام پر ہر طرح کی دھشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ اسلام اورمسلمانوں کودہشتگردی سے منسوب کرنا انتہائی قابل مذمت ہے، اور کہا گیا کہ تہذیبوں کے پرامن بقائے باہمی پرزوردیتے ہیں، اقوام متحدہ سمیت دوسرے فورموں پر عدم برداشت اوراسلاموفوبیا کے خلاف حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ او آئی سی میں ہرسال پندرہ مارچ کواسلاموفوبیا کے خلاف دن منانے کے لئے اقدامات کئے جائیں، تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اورمفاہمت کے لئے وزارت خارجہ اقدامات کرے، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اسلاموفوبیا اور توہین اسلام کے خلاف مسلم امہ کا مشترکہ موقف دنیا کے سامنے پیش کریں ۔ بعد میں قومی اسمبلی کا بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا ۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔