متنازع بیان: ایاز صادق کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے عندیہ دیا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے...
شائع 31 اکتوبر 2020 09:07am

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے عندیہ دیا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

ٹوئٹر پر ایک بیان میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ’ایازصادق کی کہی بات معافی سے آگے نکل چکی ہے، اب قانون اپنا راستہ لے گا۔ ریاست کو کمزور کرنا ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا ایاز صادق اور ان کے حواریوں کو ضرور ملنی چاہیے۔‘

وزیر اطلاعات شبلی فراز، ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں بدھ کو دیے گئے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ن لیگی رہنما نے بھارتی جاسوس ابھی نندن کی حوالگی کے حوالے سے بات کی تھی۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی ایاز صادق کے بیان کے تناظر میں ان کا نام لیے بغیر جمعرات کو نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ایسا بیان دیا گیا جس میں تاریخ کو مسخ کرنے کی بات کی گئی اور پاکستان کی فتح کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

ایاز صادق کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے؟

وزیر اطلاعات کی طرف سے قانونی کارروائی کے عندیے کے باوجود قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا سکتی۔

آئین کے آرٹیکل 66 (شق ایک) کے مطابق پارلیمنٹ میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور کسی رکن پارلیمنٹ کی ایوان میں کی گئی کسی بات پر اس کے خلاف کسی عدالت میں کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

حالیہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہو کیونکہ قومی اسمبلی میں تقریر پر سپریم کورٹ اور کوئی اور عدالت ایکشن نہیں لے سکتی۔

حکومت کے پاس ایاز صادق کے خلاف کارروائی کے کیا آپشنز ہیں؟

آئین کے آرٹیکل 63 (ون جی) کے تحت اگر کسی رکن اسمبلی کو اگر کسی عدالت سے مسلح افواج کے ساکھ کو نقصان پہنچانے پر سزا ہو چکی ہو تو پھر اس کی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ رکن اسمبلی کو کسی عدالت سے سزا ہو چکی ہو۔

حکومت کے پاس دوسرا آپشن یہ ہوتا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل سترہ کے تحت کسی پوری سیاسی جماعت کے قیام کو پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے خلاف قرار دے تاہم ایسا قرار دینے کے پندرہ دن کے اندر ہی اس کی سپریم کورٹ سے توثیق لازم ہوتی ہے۔ تاہم ایاز صادق کے حوالے سے حکومت کے پاس لیگل آپشنز محدود ہیں۔

یاد رہے کہ ایاز صادق نے جمعہ کو ایک وضاحتی ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کل جو میں نے اسمبلی میں بیان دیا اس پر انڈین میڈیا کا جو ردعمل آیا ہے وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔‘