کیا وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ خالی آسامیوں کو پرکریں ؟اسلام آبادہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ڈی جی سول ایوی ایشن لگانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کیا وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ خالی آسامیوں کو پرکریں ؟،کیا وفاقی حکومت کوکوئی ایسا بندہ نہیں مل رہا جسے ڈی جی لگایا جائے؟۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے جعلی پائلٹ لائسنس منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے طیب شاہ سے استفسارکیا کہ کیا وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ خالی آسامیوں کو پرکریں ؟جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ اس معاملے کووفاقی کابینہ کے سامنے اٹھایا گیا ۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پوچھا کہ سول ایوی ایشن کے ریگولیٹری اتھارٹی کیوں غیرفعال ہے؟عام لوگ متاثرہورہے ہیں ،جعلی پائلٹ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا،جب باڈی ہی غیرفعال ہو؟اٹارنی جنرل نے نمائندہ مقررکرنے کا کہا تھا؟۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے ہے اوربہت جلد ہی یہ معاملہ حل ہوگا ۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ پائلٹ پرجہاز میں بیٹھے تمام مسافروں کی جان کی ذمہ داری ہوتی ہے ،پائلٹ کا لائسنس غلط منسوخ ہوا ہے مگر یہ عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کرےگی ریگولٹری باڈی ہی دیکھ سکتی ہے ،عدالت پائلٹ کا لائسنس بحال کرنے کے احکامات نہیں دے سکتی۔
عدالت نے وفاقی حکومت کوسول ایوی ایشن کے ڈی جی تعینات کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 24 نومبرتک کیلئے ملتوی کردی۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔