سستی شہرت کے متلاشی ٹک ٹاکرز کا نیا احمقانہ ٹرینڈ
سستی شہرت پانے کیلئے ٹک ٹاکرز کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور کسی بھی اوچھی حرکت گریز نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز ایک سے بڑھ کر ایک جان لیوا اور احمقانہ ٹرینڈز سامنے آتے رہتے ہیں، جن سے نا صرف جان کو خطرہ ہوتا ہے بلکہ بعد میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق بھی نہیں رہ پاتے۔
اب انہی سستی شہرت کے متلاشی ٹک ٹاکرز نے نیا ٹرینڈ متعارف کرانے کے چکر میں اپنے دانتوں کو ترشوانا شروع کر دیا ہے۔ دانتوں کو ترشوانے کا مطلب ہے کہ اگلے چند سالوں میں آپ دانتوں سے مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ مگر ٹرینڈ کو تو فالو کرنا ہی پڑتا ہے لہٰذا اب ٹک ٹاکرز میں دانتوں کو گھسوانے کا نیا جنونی رجحان چل پڑا ہے۔
بعض مرد اور خواتین نے اپنے سامنے کے دانتوں کو اس طرح ترشوایا ہے کہ وہ شارک کے دانتوں کی طرح تکونے اور نوکیلے ہوجاتے ہیں، اس طرح دانتوں کے درمیان وسیع خلا دکھائی دیتا ہے۔
دانتوں کے ماہرین نے ٹک ٹاک دیکھنے والے تمام افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پاگل پن سے دور رہیں کیونکہ 40 سال کی عمر میں دانت ڈھیلے اور کمزور پڑجائیں گے۔ اس طرح انہیں بچانے کے لیے دانتوں پر کیپ لگانا پڑیں گے۔ ایک مرتبہ دانت کو اس طرح گھسوانے سے دانت کسی بھی طرح دوبارہ ٹھیک نہیں ہوسکیں گے۔
بعض ٹک ٹاکرز نے کہا ہے کہ اس عمل کا گڑھ ترکی ہے، ٹک ٹاکرز وہاں جاکر دانتوں کو نوکیلا بنوا رہے ہیں اور اس طرح کا روپ دھارنے والے اب تعداد میں بڑھ چکے ہیں۔
ایسی ویڈیوز پر دندان سازوں نے دھڑادھڑ انتباہی پیغامات دیتے ہوئے عوام کو اس عمل سے روکا ہے۔ ٹک ٹاکرز کے ترشوائے ہوئے دانتوں کو دیکھ کر ماہر دندان نے کہا کہ یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ دانت گھسوانے سے رگیں کھل جائیں گی اور اگلے دس سال کے اندر اندر اس کے شدید منفی نتائج سامنے آئیں گے۔ اس طرح انہیں ایمرجنسی میں دانتوں پر کیپ یا کوئی دوسر طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
بعض ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دانت اتنے متاثر ہوجائیں گے کہ شاید 40 برس کی عمر میں بتیسی لگوانی پڑجائے گی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔