زیادتی کیس: یوٹیوبر رجب بٹ پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی
لڑکی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں یوٹیوبر رجب بٹ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔
بدھو کو لاہور کی سیشن کورٹ میں مشہور یوٹیوبر رجب بٹ اور دیگر کے خلاف مبینہ زیادتی کے کیس کی سماعت ہوئی جہاں ایڈیشنل سیشن جج یاسر عرفات نے کیس کی کارروائی چلائی۔
سماعت کے دوران ملزمان رجب بٹ، جہانگیر، جواد علی اور عبدالرحمان عدالت میں پیش ہوئے تاہم اس موقع پر رجب بٹ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی اور عدالت نے اس کارروائی کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 11 مئی تک ملتوی کر دی ہے اور آئندہ سماعت پر فیصلے کا عندیہ دیا ہے۔
اس کیس کی بنیاد نواب ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں درج ہونے والی ایک ایف آئی آر ہے جس میں ایک خاتون سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے الزام لگایا ہے کہ ملزم سلمان حیدر نے اسے بحریہ آرچرڈ میں اپنے گھر بلا کر نشہ آور مشروب پلایا اور ہوش آنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔
مدعیہ کے مطابق رجب بٹ نے اپنے کزن سلمان حیدر کی مدد کی اور جب وہ اپنی بہن کے ہمراہ احتجاج کرنے وہاں پہنچی تو رجب بٹ، جہانگیر بٹ اور دیگر ملزمان نے انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا، ان کے موبائل فون چھین کر ری سیٹ کیے اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے گھر سے باہر نکال دیا۔
پولیس نے ان الزامات پر 10 جون 2025 کو تمام پانچوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
دوسری جانب اس کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا تھا جب 24 جون 2025 کو ہونے والی ایک سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج سید نجف حیدر کاظمی کے سامنے تفتیشی افسر نے اپنا بیان جمع کرایا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ دورانِ تفتیش رجب بٹ اور دو دیگر ملزمان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں اور انہیں بے گناہ پایا گیا ہے۔
پولیس نے موقف اختیار کیا تھا کہ تفتیش کے دوران ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو مدعیہ کے الزامات کی تائید کرتے ہوں۔
















