Aaj TV News

BR100 4,836 Decreased By ▼ -20 (-0.41%)
BR30 24,445 Decreased By ▼ -62 (-0.25%)
KSE100 45,727 Decreased By ▼ -204 (-0.44%)
KSE30 19,020 Decreased By ▼ -90 (-0.47%)

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے معروف گلوکار علی ظفر کے خلاف 50 کروڑ روپے ہرجانے کے دائر دعوے پر سیشن جج لاہور کے ذریعے علی ظفر کو 25 جنوری کیلئے نوٹس جاری کردئیے۔

سندھ ہائی کورٹ نے معروف گلوکار علی ظفر کے خلاف 50 کروڑ روپے ہرجانے کے خاتون لینا غنی کی جانب سے دائر دعویٰ کی سماعت کی۔

درخواست گزار نے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ علی ظفر نے پہلی مرتبہ 2014 لندن میں پاکستانی فیشن کے دوران ہراساں کیا اور علی ظفر نے جون 2014 میں 2 مرتبہ پھر اس طرح نازیبا گفتگو کی جبکہ علی ظفر نے جولائی 2014 میں بہت بڑی فرم میں کام کی آفر کی جس پر میں نے شائستگی سے انکار کردیا۔

اس کے علاوہ 19 مارچ 2018 کو معروف گلوکارہ میشا شفیع اور اداکارہ صباء قمر نے بھی علی ظفر پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کئے تھے۔

درخواست گزار نے اپنی بہن اور دوستوں کو بھی آگاہ کیا جبکہ علی ظفر کا 20 دسمبر 2020 کا ری ٹوئٹ اور 22 دسمبر کا ٹوئٹ جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے علی ظفر کے ان ٹوئٹس کو بد نیتی پر مبنی قرار دیا جانے کی درخواست کی۔ دونوں ٹوئٹ اور ری ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی ظفر مہم میں لینا غنی کا ہاتھ ہے، دونوں ٹوئٹس لینا غنی کی ساکھ نقصان پہنچانے اور عوام کی نظروں میں نیچا دیکھا نے کیلئے کئے گئے تھے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 19 اپریل 2018 کو سچ پر مبنی قرار دیا جائے اور قرار دیا جائے کہ علی ظفر کے خلاف درخواست گزار کسی آن لائن مہم کا حصہ نہیں ہے، علی ظفر کو ان کے خلاف سوشل میڈیا سمیت آن لائن، ٹی وی چینلز پر مواد اور خبریں چھپوانے سے روکا جائے، خدشہ ہے کہ ایسے مواد اور خبروں سے مجھے نیچے دیکھنے کی کوشش کی جائے گی اور اس کا میشا شفیع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا استدعا ہے کہ درخواست گزار کو ذہنی اذیت دینے پر علی ظفر سے 50 کروڑ روپے معاوضہ دلایا جائے۔