Aaj TV News

BR100 4,936 Decreased By ▼ -23 (-0.46%)
BR30 25,403 Decreased By ▼ -331 (-1.28%)
KSE100 45,865 Decreased By ▼ -101 (-0.22%)
KSE30 19,173 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

سینئر صحافی حامد میر نے معروف گلوکار شہزاد رائے کا گانا اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا 'شہزاد رائے کا نیا گانا پاکستان کی سیاست میں پیسے کے لئے ضمیر بیچنے والوں پر ایک طنز ہے اور ضمیر بیچنے والے حکومت میں بھی بیٹھے ہیں اپوزیشن میں بھی بیٹھے ہیں دونوں طرف کے ضمیر فروش اس گانے کو غور سے سنیں اور اپنے آپ سے پوچھیں وہ کس کے آدمی ہیں؟'

شہزاد رائے نے اپنے گانے میں سیاست دانون اور ضمیر فروشوں کے دوغلہ پن سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے اس گانے میں مودی کی شدت پسندی کو بھی اجاگر کیا کہ وہ خطے میں جنگ کے جذبات ابھارنے میں لگا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے ابھی نندن کے جہاز کو گرانے اور پاکستان ایئرفورس کی پیشہ ورانہ مہارت کی بھی داد دی کہ ابھی نندن کو چائے پلا کر واپس بھیجا اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔

شہزاد رائے نے سی پیک کے حوالے سے بھی دشمنوں کے عزائم نمایاں کیے اور سیاست دانوں کے حوالے سے واضح کرنے کی کوشش کی کہ کون بیرونی فنڈنگ پر چل رہا ہے اور کون کس سے پیسا لیتا ہے اور کس کے لیے کام کرتا ہے یہ جاننا ضروری ہے۔

سیاست دانوں کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کون کس کے حصے لگواتا ہے اور کس کے کہنے پر لگواتا ہے، یہ سب جاننا لازمی ہے کہ بیرونی سازشوں میں کون شریک ہے۔ اس طرح انہوں نے پاکستانی سیاست کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس گانے کو خوب پذیرائی مل رہی ہے اور گانا خوب وائرل ہے جس پر طرح طرح کے تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

YouTube/Shehzad Roy

یاد رہے کہ آج کل سینیٹ الیکشن کو لے کر ہارس ٹریڈنگ اور پچاس پچاس کروڑ میں ووٹ بیچنے کی باتیں بھی عام ہیں اور ایسے موقعہ پر شہزاد رائے کا سیاست دانوں کی ضمیر فروشی کے لیے گانا ان کے کردار کو اور زیادہ واضح کرتا ہے۔