Aaj TV News

BR100 4,874 Decreased By ▼ -45 (-0.92%)
BR30 25,236 Decreased By ▼ -342 (-1.34%)
KSE100 45,363 Decreased By ▼ -366 (-0.8%)
KSE30 18,884 Decreased By ▼ -101 (-0.53%)

گلوبل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے انڈیا کے ایل اے سی کے جس علاقے پر قبضہ کیا تھا وہاں سے پیچھے ہٹ گیا ہے مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس علاقے میں انڈین آرمی کو بھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

چینی فوج نے انڈیا کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے 200 ٹینکس واپس اپنی سرحد پر بلا لیے ہیں لیکن اگر آپ کی طرف سے کوئی بھی شخص اس علاقے میں آیا تو جس تیزی کے ساتھ ہمارے ٹینکس واپس گئے ہیں اس سے بھی کہیں زیادہ سرعت کے ساتھ ہمارے ٹینکس واپس بھی آجائیں گے۔

لداخ پر تو چین نے پہلے ہی قبضہ کر لیا تھا مگر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے سرحدی علاقے میں بھی چین کی فوج نے انڈیا کے علاقے کو اپنے قبضے میں لے کر وہاں اپنی بستی بنا لی تھی، مگر اب کچھ فوجی معاہدے ہونے کے بعد سے چینی افواج واپس چلی گئی ہیں۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈیا چین کے ساتھ جنگ کرے گا؟

ایسا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کچھ عرصہ قبل جب چین اور انڈیا کی افواج کی جھڑپ ہوئی تو اس میں چینی فوج نے انڈین آرمی کا بھرکس نکال دیا تھا جبکہ اب ایک طرف چین کے ساتھ ٹکر لے کر دوسری طرف پاکستان کے ساتھ بھی پنگا نہیں لے سکتا۔

یہی بات ہے کہ اب کافی عرصے سے مودی اور اس کی فوج بھیگی بلی بن کر بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی کو بھی جنگ کی دعوت نہیں دے رہے۔

انڈیا کی بزدلی کی بات تو یہاں تک بھی پہنچ گئی ہے کہ میانمار میں مارشل لا نافذ ہونے کے بعد جب ساری دنیا اس کی مخالفت کر رہی ہے اور سول سپرمیسی کی بات کر رہی ہے تو ایسے میں بھارت نے میانمار کی فوج کی طرف سے لگائے گئے مارشل لاکے خلاف ایک جملہ بھی نہیں کہا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اتنی جرات ہی نہیں ہے کیونکہ اگر انڈیا نے فوجی حکومت کی مخالفت کی تو انڈیا کے میانمار سے ملحق علاقوں پر بھی ایسے قبضہ ہو جائے گا جیسے چین نے اپنے سرحدی علاقوں پو قبضہ کر لیا تھا کہ اب وہاں چین کا قبضہ بھی نہیں ہے اور انڈیا کو جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔