Aaj TV News

BR100 4,936 Decreased By ▼ -23 (-0.46%)
BR30 25,403 Decreased By ▼ -331 (-1.28%)
KSE100 45,865 Decreased By ▼ -101 (-0.22%)
KSE30 19,173 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

اسلام آباد:این اے75 ضمنی انتخاب کیس میں ن لیگی امیدوار نے 20 پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 پیش کردیئے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے بھی ریکارڈ طلب کر لیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5رکی کمیشن نے این اے 75 ضمنی انتخاب کیس کی سماعت کی ۔

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے حلقہ این اے 75میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ بات صرف 20پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی نہیں،الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی دستاویز ہے ۔

ریٹرننگ افیسرنے کمیشن کو بتایاکہ حالات خراب ہونے پر پولیس افسران سے رابطہ کیا کوئی جواب نہیں آیا تاہم انتظامیہ نے تعاون کیا، پریذائیڈنگ افسران نے گاڑی خراب اور دھند کو تاخیر کی وجہ قرار دیا۔

ریٹرننگ افیسرنے بتایا کہ 360 میں سے 337 پولنگ اسٹیشنز کا اندراج ساڑھے 3بجے تک آچکے تھے، وٹس ایپ پر بھی نتائج آتے رہے، وائرلیس رابطوں کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا، ڈی پی او کا نمبر بند ، رابطہ نہیں ہوسکا ۔

ریٹرننگ افسر نے مزیدبتایاکہ آراو آفس میں نعرے بازی ہوئی، کارکنان دیواروں پر چڑھے گئے، مجمع زیادہ ہونے پر اس وقت گھبرا گئے تھے تاہم انتظامیہ نے تعاون کیا۔

ن لیگی ارکین نے پی ٹی آئی امیدوار کے جائے فائرنگ پرموجود ہونے کا بتایا تو ممبر پنجاب نے کہاکہ امیدوار کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ فائرنگ امیدوار کی ایماء پرکی گئی۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ یہ تو اچھی بات ہے کہ جہاں فائرنگ ہوئی امیدوار پہنچ گیا جبکہ پی ٹی آئی وکیل سید محمد علی نے دلائل میں ن لیگ کے مؤقف کو بے بنیاد قراردیا ۔

پی ٹی آئی امیدوارعلی اسجد ملہی نے اپنی جیت کے نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کیا تو ممبرالیکشن الطاف ابراہیم نے سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ حالات سے کیوں بے خبرہیں ، دونوں فریقین کے نتائج کا موازنہ کریں گے۔

چیف الیکشن کمشنر نے تمام ریکارڈ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25 فروری تک ملتوی کردی۔۔