Aaj TV News

BR100 4,678 Decreased By ▼ -9 (-0.18%)
BR30 18,623 Decreased By ▼ -17 (-0.09%)
KSE100 45,507 Decreased By ▼ -105 (-0.23%)
KSE30 17,926 Decreased By ▼ -16 (-0.09%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,333,521 5,034
DEATHS 29,029 10
Sindh 505,930 Cases
Punjab 454,372 Cases
Balochistan 33,729 Cases
Islamabad 111,855 Cases
KP 182,419 Cases

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی نظر ثانی درخواستوں کی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی نظرثانی درخواستوں کی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست پر سماعت جاری ہے،جسٹس عمرعطاءبندیال کی سربراہی میں 10رکنی فل کورٹ سماعت کررہا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے دلائل دیتےہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قراردے دی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی درخواستوں میں کارروائی براہ راست نشر کرنے کی استدعا نہیں کی جاسکتی، نظرثانی کیس میں184/3 کی درخواست دائرنہیں ہو سکتی، نظرثانی کیس میں کوئی نیا مؤقف نہیں اپنایا جاسکتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے مزید کہا کہ قانون میں کھلی عدالت میں سماعت کا ذکرہے،میڈیا کا نہیں، براہ راست نشریات میڈیا کا حق ہے کسی فریق کا نہیں، کیا آزادی اظہار رائے کا مطلب براہ راست نشریات ہے؟ ۔

جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں میڈیا پر پابندیاں ہیں،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ میڈیا کی آزادی کی بات کی ہے۔

جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا انحصارغیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں پرہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے عدالت کو کئی معاملات میں آسانی ہوئی ،ویڈیولنک پرسماعت بھی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ہوتی ہے، وفاقی حکومت نہ بتائے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ،براہ راست نشریات عدالت کا اختیارہےوفاقی حکومت کا نہیں۔

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے یہ عدالتی نہیں سپریم کورٹ کا انتظام معاملہ ہے۔