Aaj.tv Logo

اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے رہنماء اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اعتماد کے ووٹ میں جو ہوا،کس سے شکایت کریں ،اعتماد کے ووٹ میں حدیں پارکی گئیں،وزیراعظم کواعتماد کا ووٹ اداروں نے لے کردیا ،پارلیمانی نظام مفلوج ہوچکا ہے۔

اسلام آبادکی احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس پر سماعت وکلاء کی ہڑتال کے باعث بغیرکارروائی 12مارچ تک ملتوی کردی گئی ۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ کیس کوڈھائی سال ہوگئے ،کوئی ثبوت نہیں آیا،ملک کےصدرنےوزیراعظم سےکہاآپ اعتمادکھوچکے ہیں،اسمبلی میں کہاگیاکہ وزیراعظم خوداعتمادکاووٹ لےرہےہیں،وزیراعظم نےایوان میں اپوزینث کوگالیاں دیں۔

شاہ خاقان عباسی کا مزیدکہنا تھا کہ اسپیکرکو معلوم نہیں کہ ہاؤس کیسےچلتاہے،جوایوان میں موجود نہ ہو اس سےمتعلق بات نہیں کرسکتے،یہ آج ملک کے پارلیمان کی حیثیت ہے،آئین کے مطابق وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کیلئے آئین پرعملدرآمد نہیں ہوا، وزیراعظم خطاب میں اپوزیشن کودھمکیاں دیتے رہے اوراسپیکر خاموش رہے ۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اعتمادکےووٹ میں جو کچھ ہوا،کس سےشکایت کریں،ڈی جی آئی ایس پی آر کو لکھوں گا،ڈی جی آئی ایس پی آرنےکہاتھا کہ سیاست میں مداخلت نہیں ہوگی،ہم ان کی بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں ،امیدہے چیئرمین سینیٹ انتخاب میں مداخلت نہیں ہوگی۔

ن لیگ کے رہنماءنے مزید کہا کہ آئینی راستےپرآئےبغیرملک آگےنہیں جاسکتا،پی ڈی ایم اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیربحث آیا،امیدہےسینیٹ انتخابات میں جوہوادوبارہ نہیں ہوگا۔

شاہ خاقان عباسی نے کہاکہ بلوچستان میں 70کروڑ میں سینیٹ نشست بیچی گئی،سینیٹ انتخاب میں 35 کروڑسندھ اور17کروڑبلوچستان میں کس نے دیئے،اعتماد کے ووٹ میں حدیں پارکی گئیں،وزیراعظم کواعتماد کا ووٹ اداروں نے لے کردیا ،ملک میں پارلیمنٹ کا نظام مفلوج ہوچکا ہے،اسلام آباد میں پریس کانفرنس پرحملہ کیا گیاکیاہم اسلحہ لےکر پریس کانفرنس کریں۔

سابق وریراعظم نے مزید کہاکہ حاضر وزیرخزانہ کو اپنی ہی اراکین کے ہاتھوں شکست ہوئی ، اخلاقی طورپر مستعفی ہوجانا چاہے لیکن حفیظ شیخ وزارت پر برجمان ہیں ۔

لیگی رہنماء شاہد خاقان عباسی نے امید کا اظہارکیا کہ بارہ مارچ کوماضی میں اپنایا گیا طریقہ دوبارہ نہیں اپنایا جائے گا۔