Aaj TV News

BR100 4,678 Decreased By ▼ -9 (-0.18%)
BR30 18,623 Decreased By ▼ -17 (-0.09%)
KSE100 45,507 Decreased By ▼ -105 (-0.23%)
KSE30 17,926 Decreased By ▼ -16 (-0.09%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,333,521 5,034
DEATHS 29,029 10
Sindh 505,930 Cases
Punjab 454,372 Cases
Balochistan 33,729 Cases
Islamabad 111,855 Cases
KP 182,419 Cases

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ احتجاجی اساتذہ کو2017میں کانٹریکٹ پر ملازم رکھا گیا تھاجبکہ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ گریڈ 17 کی کوئی اسامی بغیر پبلک سروس کمیشن امتحان کے بغیر پر نہیں کی جاسکتی۔

اپنےایک ویڈیو بیان میں سعید غنی نے کہاہے کہ احتجاج اساتذہ کی بھرتی کو 2017 میں ہی اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔مئی 2018 میں سندھ ہائی کورٹ نے بھرتی کےپورے عمل کی اسکروٹنی کاحکم دیا۔ سپریم کورٹ نے معروف اظہر علی خان کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ گریڈ 17 اور اسے سے اوپر کی اسامیوں کےلئے پبلک سروس کمیشن کا بغیر پر نہیں کی جاسکتیں۔

انہوں نےکہا سندھ کابینہ نے عدالتی حکم کے مطابق اساتذہ کا کیس پبلک سروس کمیشن کو ارسال کیا مگر اساتذہ نے عدالت سے پبلک سروس کمیشن کے خلاف اسٹے لے لیااور پھر عدالت کا حکم آیا کہ تمام اساتذہ کو فارغ کرکے قانون نے مطابق نئی بھرتی کی جائے۔

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کسی کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا اور کانٹریکٹ میں 6 ماہ کی توسیع کردی ہے۔ مگر اساتذہ پبلک سروس کمیشن کے عمل میں شامل نہیں ہورہے۔ حیدرآباد اورکراچی بینچ کے کیسز کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو ارسال کرنے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ مسئلہ کا کوئی حل نکل سکے۔