میر رضا ہلاکت کیس: پُراسرار گیسٹ ہاؤس کا چودہ سالہ ملازم سامنے آ گیا، اہم انکشافات
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے کیس کی تفتیش میں ایک انتہائی اہم اور بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، آج نیوز اس پُراسرار گیسٹ ہاؤس کی اندرونی تفصیلات سامنے لے آیا ہے جہاں سے مبینہ طور پر میر رضا کی لاش ملی تھی۔ اس تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس سے روتے ہوئے بھاگنے والا بچہ بھی سامنے آ گیا ہے، جس کی شناخت چودہ سالہ شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔
شاہد اس گیسٹ ہاؤس میں دن کے وقت بطور ملازم کام کرتا ہے اور اس نے پولیس کے سامنے واقعے کی رات کے تمام احوال اور اپنے رونے کی اصل وجہ بتا دی ہے۔
چودہ سالہ شاہد نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس نے میر رضا کو اس واقعے سے پہلے کبھی بھی گیسٹ ہاؤس میں نہیں دیکھا تھا۔
شاہد کے مطابق، جب میر رضا کے والد گیسٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے وہاں شور مچایا، تو گیسٹ ہاؤس کا دیگر عملہ پیچھے کے راستے سے فرار ہو گیا۔
شاہد نے کہا کہ ”ہمیں لگا پولیس اور میڈیا کا چھاپہ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے میں شدید ڈر گیا اور میں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ جب بعد میں دروازہ کھولا تو میر رضا کے والد سامنے کھڑے تھے، تاہم انہوں نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔“
شاہد نے گیسٹ ہاؤس کے دیگر عملے کے فرار ہونے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ دیگر عملے نے درخت پر چڑھ کر دیوار عبور کی اور بھاگ نکلے۔
پولیس نے بعد میں فرار ہونے والے عملے کے تین میں سے دو افراد کو پکڑ لیا ہے، جبکہ ایک شخص تاحال فرار ہے۔
شاہد کا کہنا ہے کہ پولیس نے میرا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا ہے۔
دوسری جانب تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت گیسٹ ہاؤس سے چھ افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن سے میر رضا کیس کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
یہ کیس اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا تھا جب سوشل میڈیا پر یہ الزامات سامنے آئے کہ گلستانِ جوہر کا یہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔
ان الزامات پر شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی ہے کہ نامعلوم افراد ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لہٰذا اس مہم کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔
اس دوران سندھ حکومت نے عوامی دباؤ اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔
عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔
تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔














