میر رضا ہلاکت کیس: معدے اور پھیپھڑوں سے اہم شواہد برآمد، 21 افراد زیرِ حراست
کراچی کے نوجوان میر رضا کی ہلاکت کے کیس میں تفتیش نے ایک بالکل نیا اور اہم رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں تفتیشی اداروں کو مقتول کے جسمانی شواہد اور کیمیائی تجزیے سے انتہائی حساس معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
تفتیشی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میر رضا کے معدے اور پھیپھڑوں سے اہم ترین شواہد ملے ہیں۔
تفتیشی ماہرین کو مقتول کے پھیپھڑوں پر غیر معمولی اثرات کے واضح شواہد ملے ہیں، جبکہ ان کی شرٹ سے کسی دوسرے شخص کے پسینے کے نشانات بھی حاصل ہوئے ہیں جن کی ڈی این اے اور کیمیائی تجزیے کے لیے فارنزک رپورٹ کا شدید انتظار کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ مقتول کے ہاتھوں اور پیروں سے بھی انتہائی اہم شواہد جمع کر لیے گئے ہیں جو واقعے کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اسی دوران تفتیش کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب واقع اس مشکوک گیسٹ ہاؤس کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے جہاں سے میر رضا کی لاش ملی تھی۔
پولیس نے اس گیسٹ ہاؤس سے وابستہ چھ ملازمین کو بھی اپنی حراست میں لے لیا ہے تاکہ واقعے کی رات کی سرگرمیوں کا پتہ چلایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس کیس کی چھان بین کے سلسلے میں اب تک مجموعی طور پر اکیس افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں میر رضا کے قریبی دوست اور ان کے کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام زیرِ حراست افراد کو مختلف سوالنامے دیے گئے ہیں اور ان کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔
قبل ازیں، میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے اہم گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر داخلہ سندھ اور میئر کراچی نے ان سے ملاقات کے دوران ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔
اس معاملے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے مقتول کے والد نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر اچھی طرح سوچ بچار کرنے کے بعد ہی اپنا حتمی جواب دیں گے۔
تفتیش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میر حسین نے پولیس کی تشکیل کردہ نئی تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کمیٹی کے سربراہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی ایک اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور مجھے پوری امید ہے کہ ان کی سربراہی میں قائم نئی تحقیقاتی کمیٹی تمام حقائق کو درست انداز میں سامنے لائے گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے میر رضا کا بزنس پارٹنر بھی اس واقعے کے بعد سے پراسرار طور پر غائب ہے۔
اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کے والد نے کہا کہ سابقہ پولیس ٹیم نے ان سے صرف ایک بار تفتیش کی تھی، جبکہ گیسٹ ہاؤس کے ملازمین سے کیا تحقیقات کی گئی ہیں، اس بارے میں بھی انہیں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔
میر حسین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اس واقعے سے متعلق گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج تاحال سامنے نہیں لائی گئی ہے۔
انہوں نے مطالبات اور تحفظات کے ساتھ امید ظاہر کی کہ نئی تفتیشی ٹیم ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر شفاف تحقیقات کرے گی تاکہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
قبل ازیں، آج نیوز اس پُرایسرار گیسٹ ہاؤس کے اندرونی احوال بھی سامنے لاچکا ہے اور وہاں سے روتے ہوئے نکلنے والے چودہ سالہ ملازم شاہد کا بیان بھی منظرِعام پر آچکا ہے۔
شاہد نے بتایا تھا کہ شور مچنے پر دیگر عملہ دیواریں پھلانگ کر فرار ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ گلستانِ جوہر کے اس گیسٹ ہاؤس کا تعلق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے جوڑے جانے کے بعد انہوں نے بھی سائبر کرائم ایجنسی سے رجوع کر کے ان الزامات کو من گھڑت قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو ملی تھی۔ پولیس کی جانب سے پہلے اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اہلِ خانہ کے تحفظات پر قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کے جسم پر تشدد، پسلیاں و دانت ٹوٹنے اور پیچھے سے گولی لگنے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کی گئی۔















