Aaj TV News

BR100 5,117 Decreased By ▼ -27 (-0.52%)
BR30 26,381 Decreased By ▼ -403 (-1.51%)
KSE100 47,346 Decreased By ▼ -29 (-0.06%)
KSE30 19,005 Increased By ▲ 10 (0.05%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 964,490 830
DEATHS 22,452 25
Sindh 341,275 Cases
Punjab 347,014 Cases
Balochistan 27,445 Cases
Islamabad 83,048 Cases
KP 138,616 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں رشوت کے الزام میں نوکری سے فارغ نیب افسران کخلا ف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزاراحمد نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نیب میں موجود افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اورچیئرمین نیب خاموش ہیں،نیب نے 2ماہ کے کام پر3سال لگادیئے، افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ،3سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کچھ نہیں کیا، جان بوجھ کرگھپلاکیا تاکہ کیس خراب ہو جائے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے رشوت لینے کے الزام میں نوکری سے فارغ نیب افسران کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے اسسٹنٹ ڈائریکٹرنیب فاخرشیخ اور ترویش کخلاکف انکوائری جاری ہونے کا بتایا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ 2018 سے معاملہ چل رہا ہےابھی تک انکوائری ہی مکمل نہیں کی، نیب کیا کر رہا ہے، آپ سے کوئی کام نہیں ہوتا، بتائیں اس سارے معاملے پرکون ذمہ دار ہے،3سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کچھ نہیں کیا، جان بوجھ کرگھپلاکیا تاکہ کیس خراب ہو جائے،نیب نے تماشا بنایا ہوا ہے، نیب افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیئے کہ نیب نے2ماہ کے کام پر 3سال لگا دیئے، نیب میں موجود ایسے افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اورچیئرمین نیب خاموش ہیں، چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں ،چیئرمین نیب بغیر انکوائری کسی ملازم کو کیسے فارغ کرسکتے ہیں، نیب ایسے لوگوں کو تنخواہ اورغلط کام کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

عدالتی آبزرویشنزکے بعد نیب نے اپنے طور پر انکوائری مکمل کرنے کیلئے کیس واپس لے لیا، جس پر سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔