Aaj TV News

BR100 4,846 Increased By ▲ 46 (0.97%)
BR30 24,817 Increased By ▲ 124 (0.5%)
KSE100 45,175 Increased By ▲ 231 (0.51%)
KSE30 18,470 Increased By ▲ 87 (0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 854,240 4109
DEATHS 18,797 120
Sindh 290,756 Cases
Punjab 316,334 Cases
Balochistan 23,186 Cases
Islamabad 77,684 Cases
KP 123,150 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں رشوت کے الزام میں نوکری سے فارغ نیب افسران کخلا ف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزاراحمد نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نیب میں موجود افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اورچیئرمین نیب خاموش ہیں،نیب نے 2ماہ کے کام پر3سال لگادیئے، افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ،3سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کچھ نہیں کیا، جان بوجھ کرگھپلاکیا تاکہ کیس خراب ہو جائے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے رشوت لینے کے الزام میں نوکری سے فارغ نیب افسران کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے اسسٹنٹ ڈائریکٹرنیب فاخرشیخ اور ترویش کخلاکف انکوائری جاری ہونے کا بتایا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ 2018 سے معاملہ چل رہا ہےابھی تک انکوائری ہی مکمل نہیں کی، نیب کیا کر رہا ہے، آپ سے کوئی کام نہیں ہوتا، بتائیں اس سارے معاملے پرکون ذمہ دار ہے،3سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کچھ نہیں کیا، جان بوجھ کرگھپلاکیا تاکہ کیس خراب ہو جائے،نیب نے تماشا بنایا ہوا ہے، نیب افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیئے کہ نیب نے2ماہ کے کام پر 3سال لگا دیئے، نیب میں موجود ایسے افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اورچیئرمین نیب خاموش ہیں، چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں ،چیئرمین نیب بغیر انکوائری کسی ملازم کو کیسے فارغ کرسکتے ہیں، نیب ایسے لوگوں کو تنخواہ اورغلط کام کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

عدالتی آبزرویشنزکے بعد نیب نے اپنے طور پر انکوائری مکمل کرنے کیلئے کیس واپس لے لیا، جس پر سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔