Aaj TV News

BR100 5,205 Decreased By ▼ -24 (-0.45%)
BR30 26,756 Decreased By ▼ -198 (-0.74%)
KSE100 47,793 Decreased By ▼ -80 (-0.17%)
KSE30 19,161 Decreased By ▼ -32 (-0.17%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,004,694 2,819
DEATHS 23,016 45
Sindh 364,784 Cases
Punjab 352,682 Cases
Balochistan 29,494 Cases
Islamabad 85,519 Cases
KP 141,627 Cases

برطانوی ہوں، سوویت یونین یا دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والا سُپر پاور امریکا ہی کیوں نہ ہو۔ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کی طاقت ور ترین افواج کے لئے ہمیشہ ہی جنگ کا سب سے مشکل میدان رہا ہے۔

1971 میں سوویت یونین نے اپنے علاقے کو وسعت دینے کے لئے افغانستان پر چڑھائی کی۔ جس کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکی سینٹرل انٹلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے پاکستانی پریمئیر انٹر سرویس انٹلیجنس (آئی ایس آئی) کے ساتھ مل کر افغان مجاہدین کو تربیت دی، جس کے بعد وہ سوویت جارحیت سے اپنا دفاع کرنے کے اہل ہوئے۔

سوویت کے پسپائی کے بعد افغانستان کا انتظام افغان طالبان کے ہاتھوں آیاجو ڈیورنڈ لائن کا سب سے پُر امن دور تھا۔ لیکن نائن الیون کے فوراً بعد امریکی فوج نے افغانستان پر حملہ کیا اور اپنی ہی تخلیق کردہ طاقت کو شکار کرنا شروع کیا اور اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیا۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کو امریکی اتحادی بنایا اور نیٹو کو پاکستان کے راستے افغانستان میں سامان کی فراہمی کی اجازت دی۔ کسی اور کی جنگ میں پاکستان کو شامل کرنے پر مشرف کے اس فعل نے ان کے خلاف بہت سارے تنقیدی دروازے کھول دئے۔

اس حوالے سے 7 مئی 2014 کو سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس آئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ' جب تاریخ رقم ہوگی تو کہیں گے کہ آئی ایس آئی نےامریک اکی مدد سے سویت یونین کو افغانستان کو شکست دی، پھر ایک اور جملہ ہوگا۔ آئی ایس آئی نے امریکا کی مدد سے امریکا کو شکست دیدی۔'

آج جب امریکی اور اتحادی افواج 20 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ساز و سامان کو پیچھے چھوڑ کر افغانستان سے دستبردار ہو رہے ہیں، کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنرل حمید گل مرحوم کی پیش گوئیاں اس دنیا سے رخصت ہونے کے سالوں بعد سچ ہورہی ہیں؟