Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,367,605 7,586
DEATHS 29,097 20
Sindh 523,774 Cases
Punjab 462,323 Cases
Balochistan 33,910 Cases
Islamabad 117,436 Cases
KP 184,455 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں سرکاری بھرتیوں سے متعلق کیس میں صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے کنٹریکٹ ملازمین کو گریڈ 17میں مستقل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوامیں بلیک میلنگ کا سلسلہ چل رہا ہے،بغیر پبلک سروس کمیشن کے کیسے درخواست گزاروں کو پروموٹ کر دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پولیس کمپلینٹ کمیشن اور پبلک سیفٹی خیبرپختونخوامیں بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

وکیل ملازمین نے بتایا کہ چند افراد کے علاوہ باقی سارے ملازمین کو ریگولر کردیا گیا ہے، سول ججزبھی بغیرمقابلے کےامتحان کےتعینات ہوتے ہیں،جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ججزپبلک سروس کمیشن کےتحت نہیں آتےان کیلئےالگ شرائط ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ خیبرپختونخوا میں بلیک میلنگ کا سلسلہ چل رہا ہے، عدالت کسی کو ریگولرائز نہیں کرسکتی یہ حکومت کا کام ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بغیر پبلک سروس کمیشن کے کیسے درخواست گزاروں کو پروموٹ کر دیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے تمام ملازمین کی اپگرڈیشن ہونے کا بتایا کہ جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ابھی تک اسکروٹنی کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار نے توہین عدالت کی درخواست دی تھی اس لےن ریگولر کردیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں سے ریگولرائزیشن نہیں ہو سکتی قانون کے مطابق ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے ملازمین کی گریڈ 17میں بھرتی کےمعاملے پرخیبرپختونخوا حکومت سے جواب اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔