Aaj.tv Logo

ایک آٹھ سالہ نابالغ ہندو بچے کو پاکستان کے مشرقی صوبے پنجاب میں توہین مذہب کا سب سے کم عمر ملزم بننے کے بعد پولیس نے حفاظتی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

لڑکے کی فیملی روپوش ہے اور پنجاب کے قدامت پسند ضلع رحیم یار خان میں ہندو برادری کے کئی افراد اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں، گذشتہ ہفتے لڑکے کی ضمانت پر رہائی کے بعد ایک ہجوم نے ہندو مندر پر حملہ کیا تھا۔ مزید بدامنی کو روکنے کے لیے علاقے میں پیرا ملٹری فروس تعینات کی گئی اور ہفتہ کو مندر پر حملے کے سلسلے میں 20 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

آٹھ سالہ بچے پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ ایک مدرسے کی لائبریری میں قالین پر پیشاب کیا تھا، جہاں مذہبی کتابیں رکھی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداے گارجین کے مطابق نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے لڑکے کے خاندان کے ایک رکن نے بتایا، 'وہ [لڑکا] توہین مذہب کے اس طرح کے معاملات سے واقف بھی نہیں ہے اور اس معاملے میں غلط طریقے سے ملوث کیا گیا ہے۔ اسے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ اس کا جرم کیا تھا اور اسے ایک ہفتے کے لیے جیل میں کیوں رکھا گیا۔' لڑکے اور خاندان کے ممبروں کا نام جانتا ہے ، لیکن اس نے اپنی حفاظت کے لیے اپنی شناخت کی حفاظت کا انتخاب کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ،'ہم نے اپنی دکانیں اور کام چھوڑ دیا ہے ، پوری کمیونٹی خوفزدہ ہے اور ہمیں ردعمل کا خوف ہے۔ ہم اس علاقے میں واپس نہیں آنا چاہتے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ مجرموں کے خلاف کوئی ٹھوس اور بامعنی کارروائی کی جائے گی یا یہاں رہنے والی اقلیتوں کی حفاظت کی جائے گی۔'

ایک بچے کے خلاف توہین مذہب کے الزامات نے قانونی ماہرین کو چونکا دیا ہے، جو کہتے ہیں کہ اس اقدام کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک بچے پر پاکستان میں پہلے کبھی توہین مذہب کا الزام نہیں لگایا گیا۔

گارجین کے مطابق توہین رسالت کے قوانین ماضی میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف غیر متناسب طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ 1986 میں اس جرم کے لیے سزائے موت متعارف کروائے جانے کے بعد سے ملک میں توہین رسالت کی کوئی پھانسی نہیں دی گئی ہے، ملزمان پر اکثر حملہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات وہ ہجوم کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

ایک قانون دان اور پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ رمیش کمار کا کہنا ہے کہ، 'مندر پر حملہ اور آٹھ سالہ نابالغ لڑکے پر توہین مذہب کے الزامات نے مجھے واقعی حیران کر دیا ہے۔ حملے کے خوف سے ہندو برادری کے سو سے زائد گھروں کو خالی کر دیا گیا ہے۔'

انسانی حقوق کے ایک کارکن کپل دیو نے کہا، 'میں مطالبہ کرتا ہوں کہ لڑکے کے خلاف الزامات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس خاندان اور فرار ہونے پر مجبور افراد کو تحفظ فراہم کرے۔'

انہوں نے مزید کہا، 'پچھلے کچھ سالوں میں ہندو مندروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو شدت پسندی اور جنونیت کی بڑھتی ہوئی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ حالیہ حملے ہندوؤں پر ظلم و ستم کی ایک نئی لہر معلوم ہوتے ہیں۔'

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم نے گزشتہ ہفتے لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے مندر پر حملہ اور توڑ پھوڑ کی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر "موب اٹیک" کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبائی پولیس چیف کو حکم دیا ہے کہ وہ بشمول غفلت کے مرتکب پولیس افسران کسی بھی ملوث شخص کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ حکومت مندر کو بحال کرے گی۔

اس سے قبل پچھلے سال دسمبر میں قدامت پسند مسلمانوں کے ایک بڑے پرتشدد ہجوم نے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک صدی پرانا ہندو مندر مسمار کردیا تھا۔

گزشتہ سال شائع ہونے والی امریکی کمیشن کی بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کی ایک رپورٹ کے مطابق، مبینہ گستاخانہ کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستان نے پُرہجوم کارروائیوں، پرہجوم تشدد ، اور تشدد کی دھمکیوں کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ کیے۔