Aaj.tv Logo

مصرمیں ایک خاتون نرس نے ایک نجی نرسری سینٹرمیں آکسیجن نیٹ ورک پھٹنے کے بعد وہاں پر موجود خطرے سے دوچار آٹھ بچوں کو بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان پرکھیل کر بچایا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کو واقعے کے متعلق بتاتے ہوئے نرس صابرین محمد نےکہایہ واقعہ ملک کے جنوب میں قنا گورنری کے ایک شہر میں ایک پرایئویٹ نرسری میں پیش آیا۔ وہ اس نرسری سینٹر میں کام کرتی ہیں۔

انہوں نےبتایا کہ کام کے دوران پیرکو نصف شب ایک دوسری نرس کا فون آیا۔ فون پر دوسری نرس نےبتایا کہ ان کے وارڈ میں آکسیجن نیٹورک پھٹ گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔ اس نے صابرین سے فوری مدد کو کہا۔

صابرین نے مزیدبتایا وہ نوجوانوں اور پڑوسیوں کی مدد سے آکسیجن سیلنڈر لےکر نرسری کی طرف بھاگی لیکن وہاں سیکیورٹی عملے کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔انہوں نے مزید تاخیر نہیں کی اور فوری طور پر بچوں کے کمرے میں داخل ہوئی اور آکسیجن معطل ہونے سے متاثرہ بچوں کی زندگی بچانے کےلئے ضروری اقدامات کے.اس طرح آکسیجن کےتعطل سے مشکل سے دوچار 6 بچوں کودوبارہ سانس لینے کا موقع ملا۔ اس کے بعد انہوں ایمبولینسوں کے ذریعے جنرل اسپتال کی نرسری میں بھیج دیا گیا تاکہ وہاں پران کا علاج مکمل کیا جاسکے۔

صابرین نے بتایااس نے دوسرے دو بچوں کےلئے بھی فوری امدادی کارروائی کی اور انہں علاج مکمل کرنے کےلئے یونیورسٹی اسپتال منتقل کردیا گیا۔بچوں کی بہتری اور سانس کی بحالی میں تقریبا 5 گھنٹے لگے یہاں تک کہ اسے بچوں کی صحت کی بہتری کا یقنین ہوگیا۔

ان کاکہناتھامیں نے جوکچھ بھی کیا وہ کسی کےشکریہ یا تعریف کےلئے نہیں بلکہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری، ضیمر کی آواز پر کیا۔بچوں کی دیکھ بحال میری پیشہ وارانہ ذمہ داری تھی اورمجھےوہاں پرایک ماں کے طور پر انہیں دیکھنا تھا۔