Aaj.tv Logo

افغانستان میں طالبان کے کنٹرول اور امریکی انخلا کے بعد حالات میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، خطے کے منظر نامے کے ساتھ ٹی وی کا خبر نامہ بھی بدل گیا ہے۔

ڈیلی میل کے مطابق افغانستان کے ایک مقامی چینل کے نیوز اینکر کی 42 سیکنڈز کی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں اینکر طالبان کی بندوقوں کے سائے میں اپنی ہیڈ لائن مکمل کر رہا ہے۔

اتوار کو کابل میں ایک سٹوڈیو پر مبینہ طور پر دھاوا بولنے کے بعد کا ایک حیران کن لمحہ، جب ایک افغان ٹی وی نیوز پریزینٹر نے طالبان کی بندوقوں کے سائے میں ہیڈلائنز پڑھیں
اتوار کو کابل میں ایک سٹوڈیو پر مبینہ طور پر دھاوا بولنے کے بعد کا ایک حیران کن لمحہ، جب ایک افغان ٹی وی نیوز پریزینٹر نے طالبان کی بندوقوں کے سائے میں ہیڈلائنز پڑھیں

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 8 طالبان بندوقیں تھامے اسٹوڈیو میں اینکر کے پیچھے کھڑے ہیں۔ جبکہ اینکر اپنے سامعین سے مخاطب ہے اور کہہ رہا ہے کہ طالبان کا ساتھ دیں اور ان سے گھبرائیں نہیں۔

ٹی وی اسٹوڈیو نے طالبان کی جانب سے زور دینے پر نیوز اینکر سے طالبان کی تعریف کرنے کا کلپ آن لائن شیئر کیا ہے۔ 42 سیکنڈ کے کلپ کو اب تک 1 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

تصویر: اسکرین گریب/ڈیلی میل
تصویر: اسکرین گریب/ڈیلی میل

دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ایجسنی کے مطابق افغانستان کی نیوز اینکر بہشتا ارغند اپنے اہلخانہ سمیت افغانستان کو خیرباد کہہ گئیں اور بیرون ملک منتقل ہو گئیں۔

بہشتا ارغند کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد کی طرح میں بھی افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئی کیونکہ مجھے بھی دیگر لوگوں کی طرح طالبان کا خوف تھا، تاہم ایک ان ایسا ضرور آئے گا جب میں اپنے وطن واپس لوٹوں گی۔

افغانستان کی نیوز اینکر 24 سالہ بہشتا ارغند نے طالبان کے کابل آنے کے بعد طالبان رہنما مولوی عبدالحق حمد کا پہلا براہ راست انٹرویو کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔