Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تیزی سے گرتے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں گراوٹ کو روکنے کیلئے اہم فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے پاکستان سے ڈالرز کی افغانستان سمگلنگ روکنے کے لیے ڈالرز کی ترسیل کے حوالے سے بڑی پابندی عائد کر دی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے فیصلے کے مطابق افغانستان جانے والے افراد پر پاکستان سے ڈالرز لے جانے کی حد مقرر کی گئی ہے۔ افغانستان جانے والے شخص کو فی دورہ 1 ہزار ڈالر جبکہ سالانہ 6 ہزار سے زائد ڈالرز لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ پانچ سو امریکی ڈالر اور زائد کے مساوی تمام بیرونی کرنسی کی فروخت کی ٹرانزیکشنز اور بیرون ملک بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے لیے ایکسچینج کمپنیوں کو بایومیٹرک تصدیق کرنی ہوگی۔ یہ شرط 20 اکتوبر 2021 سے لاگو ہوگی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسچینج کمپنیاں دس ہزار امریکی ڈالر اور زائد کے مساوی نقد بیرونی کرنسی کی فروخت اور بیرون ملک ترسیلات زر بھیجنے کا عمل صرف چیک کے ذریعے وصول ہونے والی رقوم کے عوض یا بینکاری چینلز کے ذریعے کریں گی۔

ان ضوابطی اقدامات سے ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے بیرونی کرنسی کی فروخت کی دستاویزیت بہتر ہوگی اور بیرونی کرنسی کے ناجائز طور پر ملک سے باہر جانے کو روکا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء اور اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان میں زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی آئی اور روپے کی قدر میں بھی بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں ڈالرز کے ذخائر انتہائی محدود ہیں، اس صورتحال میں مبینہ طور پر پاکستان سے افغانستان ڈالرز سمگل کیے جا رہے ہیں۔