Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,453 431
DEATHS 28,761 8
Sindh 476,494 Cases
Punjab 443,379 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,848 Cases
KP 180,254 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پولیس اہلکار کی سروس معطلی کی درخواست پر سماعت کےدوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کیا پولیس میں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ؟کیا ریاست کا کام صرف مقدمات درج کر کے اپنا اور دوسروں کا مذاق بنانا نہیں؟۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پولیس اہلکارکی معطل سےمتعلق درخواست پرسماعت کی۔

چیف جسٹس نے اہلکارشاہد نذیرکیخلاف مقدمات سے متعلق پوچھا توایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایاکہ مجموعی مقدمات 14جبکہ چارج شیٹ میں 8 کا ذکرہے،پولیس اہلکارسے موبائل، نقدی اورزیورات چوری میں ملوث ہے،مدعی کے پیش نہ ہونے پرمقدمات داخل دفترہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نےپنجاب پولیس اورپراسیکیوشن کی سخت سرزنش کرتےہوئےکہاکہ پنجاب پولیس نے مدعیوں سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟پولیس کی پیٹی بھائی کو سزا دلوانے میں دلچسپی ہی نہیں، پولیس میں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ محکمے نے برطرف کیا لیکن سروس ٹربیونل نے سزا کم کرکے 2سال سروس معطل کردی ۔

عدالت نے چوری اوراسٹریٹ کرائم میں ملوث لاہورپولیس کےاہلکارکی2سال سروس معطل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔