پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا مبینہ التواء، اپوزیشن کی تنقید
سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مبینہ التوا پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اچانک سے اجلاس بلایا جاتا ہے اور پھر مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ بہتر ہے پارلیمنٹ کو تالے لگا دیئے جائیں ۔
سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی ۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈریوسف رضا گیلانی ،سینٹر رضا ربانی اور دیگر نے کہا کہ اراکین ملک بھر سے تیاری کے ساتھ آۓ ہیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ مشترکہ اجلاس موخر کیا جا رہا ہے۔
اس موقعے پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کے فیصلوں سے پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، امریکہ کو ہوائی اڈوں کے دئیے جانے کا معاملہ ہے، ٹی ٹی پی سے مزاکرات کے معاملات سے پارلیمان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ ہے تو وہ پارلیمان کو ہے۔قومی سلامتی کے معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینا انتہائی افسوناک ہے۔
رضا ربانی کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے احتجاج اورشورشرابا کیا۔
ایوان میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ ابھی پتہ چلا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر ہوچکا ہے ملک بھر سے اراکین پارلیمنٹ آگئے ہیں۔ بتایا جائے کہ مشترکہ اجلاس ہورہا ہے کہ نہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مشترکہ اجلاس موخر ہونے بارے حکومت کو پتہ ہوگا مجھے معلوم نہیں، چار سال میں پہلی مرتبہ اجلاس تاخیر سے شروع ہوا ہے، اس کیلئے معذرت خواہ ہوں۔
وزیرمملکت علی محمد خان نے اس پر جواب دیا اور کہا کہ کوئی رکن اگر خصوصی جہاز لیکر مشترکہ اجلاس کے لیے آتے ہیں تو کوئی احسان نہیں ۔ان پر لازم ہے کہ وہ اجلاسوں میں شرکت کریں ۔مشترکہ اجلاس ہوتا ہے کہ نہیں کچھ دیر میں معلوم ہو جائے گا ۔
اجلاس میں علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر عام تعطیل بحال کے لیے سینیٹ نے قرراداد متفقہ طور پر منظور کرلی ۔ قرار داد ق لیگ کے سینیٹر کامل علی آغا نے پیش کی۔
ایوان میں چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ قرارداد کی کاپی وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھیجی جائے۔
سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔