Aaj News

ہر صدی میں بحران آتاہے اور اس صدی کا بحران عمران خان ہے، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا...
شائع 12 جنوری 2022 01:28pm

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہرصدی میں بحران آتاہے اوراس صدی کا بحران عمران خان ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتےہوئے کہاکہ حکومت ہردو تین ماہ بعد منی بجٹ لے آتی ہے، حکومت معاشی پالیسی میں کنفیوژن کا شکارہے، حکومت کہتی تھی آئی ایم ایف نہیں جائیں گے، حکومت نےآغازمیں غلط معاشی فیصلے کئے، حکومت مجبورہوکرآئی ایم ایف کے پاس گئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نےکہاتھاکہ ڈیل پاکستان کیلئےتباہی ثابت ہوگی،عوام کوگیس اوربجلی کےبلوں کی صورت میں بوجھ اٹھاناپڑےگا،معیشت پرکئےگئےفیصلےعوام کیلئےباعث تکلیف ہیں،دنیا کونظرآرہا تھا پاکستان کمزورپوزیشن میں آئی ایم ایف کے پاس گیا، آئی ایم ایف جوڈیل ہوئی وہ عوام کا معاشی قتل تھا، آئی ایم ایف ڈیل کو عوام برداشت نہیں کرسکتی ۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اورآصف زرداری نے معاشی پالیسی بنانے کی دعوت دی، حکومت نےدعوت پر انکارکردیا،حکومت اپوزیشن سے مل کر پالیسی بناتی توآج تباہی نہ ہوتی، آئی ایم ایف کی سخت شرائط پرکہاجاسکتا تھا اپوزیشن نہیں مان رہی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے تاریخ میں پہلی بارگروتھ ریٹ کونگیٹو0.4 پرپہنچا دیا،عمران خان حکومت کا کارنامہ ہے گروتھ ریٹ منفی سمت میں گیا، ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے،تبدیلی کےنتیجےمیں معاشی شرح نمومنفی میں چلی گئی،ہم پاکستان کی عوام کو بتارہے ہیں یہ تبدیلی نہیں تباہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نئےوزیرکےساتھ ایک بارپھرنیابجٹ سامنےآگیاہے،کہاتھاکہ ٹیکس فری بجٹ لارہےہیں،خوشحالی آئے گی،جون میں کہامنی بجٹ نہیں لائیں گے،اب منی بجٹ میں ٹیکسز کاسونامی لارہےہیں،حکومت اپنی ضد اور انا کیلئے ایسے فیصلے کر رہی ہے، وزراء حقائق کے برخلاف بات کرتے نظر آتےہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسز لگنے سے مہنگائی اور بےروزگاری میں اضافہ ہوگا، نئے ٹیکسز سے ترقیاتی کام بھی متاثرہوں گے،ایسےفیصلےعوامی نمائندے نہیں کرسکتے،عوام کےووٹ سےآنےوالے عوام پرتوجہ دیتےہیں،حکومت آئی ایم ایف کاحکم مان کرعوام پرظلم کررہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہاکہ حکمران جماعت بلدیاتی انتخابات میں ٹریلر دیکھ چکی ہے، امیدتھی کہ وزیراعظم سائیکل پر وزیراعظم ہاؤس آئیں گے، پیٹرول کی قیمتیں عوام کوسائیکل پر لے آئی ہیں، گاڑیوں کےٹیکس میں100فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ایک ہزارسی سی گاڑی پربھی100فیصدٹیکس لگایاجارہاہے ،امیدتھی کہ حکومت آئی ٹی سیکٹر میں ریلیف دے گی، ہمارے آئی ٹی سیکٹرمیں ایکسپورٹس بڑھ رہی تھیں ،حکومت نےآئی ٹی سیکٹرپربھی ٹیکس لگادیاہے۔

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ مفت لیپ ٹاپ بانٹنےکےبجائےٹیکس میں اضافہ کردیاگیا،ملک کے کسانوں کا بھی معاشی قتل کیاجارہاہے،یوریابحران اور پانی کی منصفانہ تقسیم نہ ہونےسےفصلیں متاثرہوں گیں،حکومت نےزراعت کےشعبےپرحملہ کیاہے،آپ نے عام آدمی کی زندگی مشکل میں ڈال دی،جب حکمران عوام میں جائیں گے تولگ پتہ چل جائے گا،حکمران ہرچیز پر17فیصدٹیکس لگانےجارہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکمران ملک دشمنی میں فیصلےکررہےہیں،حکومت سلائی مشین پربھی ٹیکس لگارہی ہے،اس پرکچھ نہیں کہوں گاآپ کوسمجھ آگیاہوگا،ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیاجارہاہے ،سولرپینل پربھی ٹیکس لگایاجارہاہے،حکومت ڈونیشن اورچیریٹی پربھی ٹیکس لگارہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی سےپاکستان بھی متاثرہورہاہے،حکو مت نےمتبادل انرجی کےسامان پر ٹیکس لگادیا،بچوں کےکھانےاوردودھ پربھی ٹیکس لگ رہاہے،حکمران بچوں کے منہ سے نوالہ چھین رہےہیں، بیکری کی چیزوں پر بھی 17فیصدٹیکس لگایاجارہاہے،حکومت کے 17فیصدٹیکس سےمہنگائی بڑھےگی،ہرحکومتی اقدام سےمہنگائی کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پورےخطےمیں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے،کہتےہیں کہ سندھ کی وجہ سے پورےپاکستان میں مہنگائی ہے ،اب وزراءکہتےہیں ملک میں مہنگائی ہے ہی نہیں،ملک کاہرطبقہ مہنگائی سے متاثرہے،مہنگائی کے ذمہ دارعمران خان نیازی ہیں،3سال میں54فیصدمہنگائی بڑھ گئی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک سال میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں60فیصداضافہ ہوا،پی پی دور میں مہنگائی کاسامناتھاتوبےنظیرانکم سپورٹ پروگرام لائے،ہم نے کم ازکم تنخواہ میں اضافہ کیا،مہنگائی کے تناسب سے تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہیئے،سندھ حکومت نے کم از کم تنخواہ25ہزارروپےمقررکی،امیر لوگوں نے25ہزارتنخواہ کیخلاف عدالت سے رجوع کیا،عدالت نےتنخواہ 25ہزارکرنےپراسٹےدے دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کھادکےبحران سےملک بھرکےکسان سراپااحتجاج ہیں،کھاد کا بحران حکومت کا اپنا پیدا کردہ ہے،حکومتی فیصلوں سے گیس کا بحران پیدا ہوا ہے،فصلوں کو یوریا کھاد نہ ملنےسے نقصان پہنچےگا،فصلیں اچھی نہ ہونےسےکھانےپینےکی اشیاء کابحران ہوسکتاہے ،حکومت خود ہی بحران پیدا کررہی ہے،ہرصدی میں بحران آتاہےہماری صدی کابحران عمران خان ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ایک وزیرکہتاہےیوریابحران سندھ سےاسمگلنگ کی وجہ سےہے،کوئی وزیرکوسمجھائےکہ سندھ کی سرحد افغانستان سےنہیں ملتی،افغانستان کی سرحد آپ کےصوبےسےملتی ہیں،یوریا کھاد کی ایک لاکھ 50ہزار بوریاں چوری کی گئیں،کھادکی بوریاں حکومتی وزراء کودی گئی ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت نےکہاکہ 20فروری کویوریاکاانتظام ہوجائےگا،20فروری تک بہت دیرہوجائےگی،ہم 20جنوری کویوریابحران کیخلاف احتجاج کریں گے،صحت کارڈکےنام پرنجی اسپتالوں کوپیسہ دیاجارہاہے،صحت کارڈ کا پیسہ سرکاری اسپتالوں میں خرچ ہونا چاہیئے۔

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئی ایم ایف ڈیل ہماری معیشت پربہت بڑاحملہ ہے،آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک والی شرط پہلےبھی رکھی تھی،ماضی کی حکومتوں نےآئی ایم ایف کےشرائط نہیں مانی،ہمارا اپناہی بینک آئی ایم ایف کےپاس رکھوایاجارہاہے،گورنراسٹیٹ بینک کی مدت میں اضافہ کیاجارہاہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزیدکہا کہ چوری کا پکڑا گیا 800بلین روپے کہاں گئے؟دوسروں پرالزام لگانے والےخودپکڑےگئےہیں،ان کی فارن فنڈنگ بھی پکڑی گئی ہے،عمران خان کی آمدنی میں اضافہ کیسےہوا ؟27فروری کوکراچی سےنکل کر اسلام آباد پہنچیں گے۔

pm imran khan

اسلام آباد

PPP Chairman

National Assembly

Bilawal Bhutto Zardari

Comments are closed on this story.