Aaj.tv Logo

لاہور: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کی تقرری سب سے مشکل کام ہے، حیران ہوں کہ اگر ضلعی عدلیہ میں ججوں کی تقرری امتحانات کے بعد ہوتی ہے تو اعلیٰ عدالتوں میں تقرریوں کے لیے ایسا کوئی طریقہ کار کیوں نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار جسٹس فائز عیسیٰ نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایل ایچ سی بی اے) میں وکلاء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ انہوں نے پنجاب بار کونسل (پی بی سی) کے زیر اہتمام ایک تقریب سے بھی خطاب کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بہادر ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ جج کو سب سے زیادہ ڈرپوک ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔

انہوں نے کہا کہ جج کو اللہ اور آئین سے ڈرنا چاہیے ، مجھ پر امید کا کہا گیا لیکن اصل امید وکلاء ہیں جو ہم پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کا موضوع اتنا مشکل تھا کہ لگتا تھا جیسے پیپر دینے آیا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ایک بنیادی شکایت ہے کہ فیصلے سالوں بعد ہوتے ہیں، ایک وقت تھا جب وفاقی قوانین پاکستان کوڈ میں شائع ہوتے تھے لیکن اب یہ رواج بند کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ جب وہ ایک پریکٹسنگ وکیل تھے تو ان کے لیے فیصلے تلاش کرنا بہت مشکل تھا لیکن اب سپریم کورٹ کے فیصلے ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انگریزی زبان میں کچھ کام ہوا ہے لیکن اردو میں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر اسے انگریزی میں بنایا جا سکتا ہے تو اسے اردو میں کیوں شائع نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ آبادی کے فائدے کے لیے اسمبلیوں میں قانون سازی کے عمل کو اردو میں عام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر قانون سازی انگریزی میں ہوتی ہے اور شہریوں کی اکثریت ملک میں متعارف کرائے جانے والے قوانین سے ناواقف رہتی ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ اگر وہ قانون نہیں جانتے تو وہ لوگوں سے قانون کی پاسداری کے لیے کیسے کہہ سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنی اہلیہ کی شکایت پر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے بارے میں بھی بات کی جو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جرم کا تعلق دہشت گردی سے تھا لیکن سائبر کرائم قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جج کی تقرری سب سے مشکل کام ہے اور جب سول جج اور ایڈیشنل سیشن ججز کا ٹیسٹ لیا جا سکتا ہے تو پتہ نہیں دوسروں کا کیوں نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر مقصود بٹر نے جسٹس عیسیٰ کو خاص طور پر "فیض آباد دھرنا" اور "ججوں کی سازش" کے مقدمات میں ان کے فیصلوں کو یاد کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کے طور پر تقرری کا خیر مقدم کیا۔

تاہم سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔