Aaj News

نور مقدم کیس: ملزم کی پینٹ کو نہ خون لگاہوا تھا نہ چاقو پر فنگر پرنٹس تھے،تفتیشی افسر کا بیان

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تفتیش میں ہمسائیوں اور کسی چوکیدار کا بیان نہیں لکھا
شائع 24 جنوری 2022 06:24pm
Photo: FILE
Photo: FILE

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے تفتیشی افسر پر جرح مکمل کرلی۔

تفتیشی افسر نے جرح کے دوران بتایا کہ گرفتاری کے وقت مرکزی ملزم کی پینٹ کو نہ خون لگاہواتھا اور نہ ہی چاقو پر فنگر پرنٹس تھے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں نورمقدم قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں کی گئی۔

عدالت میں پراسیکیوٹر رانا حسن عباس اور مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سکندر ذوالقرنین اور پیش ہوئے اور سماعت کے دوران تفتیشی افسر عبدالستار پر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے جرح مکمل کرلی۔

تفتیشی افسر نے جرح کے دوران بتایاکہ پولیس ڈائری میں اپنے ساتھ جانےکی بات غلط لکھی تھی اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ پولی کلینک سے حاصل کیا جس پر مقتولہ کی موت کا وقت 12 بج کر 10 منٹ لکھا تھا۔

جبکہ 20 جولائی کو پونے بارہ بجے لاش مردہ خانہ کے لیے بھیجوائی گئی جبکہ جرح کےدوران تفتیشی افسر نے مزید بتایاکہ موقع پر کہیں بھی ظاہر جعفر کی موجودگی نہیں دکھائی دی۔

مقتولہ کا موبائل فون کا ای ایم ای آئی نمبر نہیں لکھا اور نہ ہی مقتولہ کی موجودگی کی تصدیق کےلیے ڈی وی آر کا فوٹو گریمیٹک ٹیسٹ کروایا گیا۔

گرفتاری کے وقت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی پینٹ کو خون نہیں لگاہواتھا اور نہ ہی چاقو پر ملزم کے فنگر پرنٹس تھے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تفتیش میں ہمسائیوں اور کسی چوکیدار کا بیان نہیں لکھا اور نہ ہی گھر کے اردگرد کیمروں کی ریکارڈنگ لی گئی ساتھ ہی واقع کا کوئی عینی شاہد بھی نہیں ہے۔

سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر کمرہ عدالت میں غنودگی کی حالت میں زمین پر بیٹھا رہا جبکہ عدالت نے نور مقدم قتل کیس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد

noor mukaddam

Comments are closed on this story.

مقبول ترین